مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 495
ہے اور کفار بتوں کو اس استعانت کا مظہر جانتے ہوئے آرام واطمینانِ دل اور معرفت کے درجہ تک پہنچنے کا وسیلہ ان بتوں کوبناتے ہیں۔چنانچہ انکا یہ کہنا کہ ہمارے بت عبادت کرتے وقت عینک کی طرح ہوتے ہیں ،انہی معنی پر دلالت کرتے ہیں یعنی جس طرح عینک بصارت کی مددگار ہے اور نگاہ کو ہدفِ حقیقی تک پہنچا تی ہے اسی طرح ہمارے بت بھی دل کے مددگار ہیں جو دل کو پراگندگی سے بچاتے ہیں اورقرب و معرفت کے درجہ تک پہنچا دیتے ہیں۔یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ نے ازل سے روئے دل کواپنی طرف جذب کر رکھا ہے پس پراگندگی کہاں ہے جبکہ معرفت تک پہنچنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔پس مومن اور بت پرست میں فرق اسی استعانت کا ہے۔ُبت پرست کشفِ انوارِحقیقت کے لیے استعانت بتوں سے مانگتا ہے اور مدد اپنے ہاتھوں تراشیدہ بتوں سے طلب کرتا ہے اور بُت پرست کا دعویٰ ہے کہ بتوں کے توسّط سے مَیں دریائے حقیقت سے مل جاؤں گا۔ہم پوچھتے ہیں کہ وہ دریائے حقیقت کتنا زیادہ ہے کیا انسان کا دل محیط العالمین کی ذات پر محیط ہوسکتا ہے؟ اے دانائے بصیر!ذرا قیاس تو کر کہ انسانی ذرّات کو قدیم الصفات (خدا) کی ذات سے کیا مطابقت اور محدود کو غیر محدود سے کیا برابری اور نہایت پذیر کو بے نہایت ذات سے کیا نسبت؟انسان کی سعی کا منتہایہ ہے کہ اپنے دل کو تمام محسوسات و مرئیات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تمام اشکال و اجسام کو زیرِلائے نافیہ لاتے ہوئے اُس ربّ العالمین کے جلال کے تصور سے اپنے دل کو ظلماتِ حیرت میں ڈال دے اور اس وقت ایسابھوکاا ور پیاسا اور سخت تکلیف میں ہو کہ جاں بلب ہورہا ہواور اس کوپانی،غذا اور علاج کی ضرورت ہواس طرح کشفِ انوار حقایق کے لیے درگاہ ِحق میں طلبگارہواور اپنی طرف سے کوئی چیزنہ تراشے۔چنانچہ کفّار ہنود جن کی ظاہری عبادت بُت پرستی ہے اور جب وہ بُت پرستی سے ہٹ کراسے اپنے طورپر تصور کرتے ہیں اورتو اپنے ہی وہم سے انگشت برابر شعلہ کاخیال باندھ کراپنے تصورمیں رکھتے ہیں تو یہ بھی بُتپرستی کی ایک قسم ہے۔(مذکورہ عقیدہ میں) یہ نہ جانتے ہوئے کہ خداانسان کا محکوم ہے یا نہیں جو انسان کے تصورکاتابع ہو۔کیا وہ جو محیط العالمین ہے(وہ) انسان کے تصورمیں سماسکتا ہے ؟تیرا قیاس اس پر ہرگزمحیط نہیںہوگا۔دروغ و کذب کو راستی کے محل پر لانا اور اپنے مفروضہ