مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 492
اب اس کلام کے ذیل میں بت پرستوں کے اوہام کا ازالہ تحریر کیا جارہاہے جیساکہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔اس رسالے کے پہلے صفحہ کی ساتویں اور آٹھویں سطر میں یہ کہتے ہیں کہ خدائے بے مثل ان تین اجسام سے مجسم ہوا پھر بھی اس وحدانیت کا دامن غبارآلود نہیں ہوا۔میں کہتا ہوںکہ خدائے تعالیٰ کا واحد ہونا اور اسکاتمام موجودات پر محیط ہونا اور اسکا غیرمحدودہونااور ازل سے ابد تک اس کایکساں ہونااورسب سے بزرگ تر ہونا وغیرہ جو صفات رکھتا ہے اسکی یہ تمام صفات روزِاوّل سے ہمارے دل پر نقش ہیں اور ہماری روحیںاورقلوب اس کی قرارگاہ اورا ٓرام گاہ ہو چکے ہیں اور اسکی تمام صفات ہمارے دل کا مرجع اور ہمارے دل ان صفات سے مانوس ہیں۔اور کفار کا خدا کے مجسم اور تین وجود ماننااور انہیں بیوی بچوں اور ماں باپ والا کہنا ان کا صرف زبانی دعویٰ ہے اور دل کو اس کے تسلیم سے کچھ حصّہ نہیں۔پس اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ جن امور کو حق تعالیٰ کی ذات میں گمان کرتے ہیں،دل کی شہادت اس پر نہیں ہے اور اگر اس غبار سے مراد وہ غبار ہے جو تودہِ ء خاک سے حاصل ہوتاہے تو یہ امرِدیگر ہے۔واضح ہو کہ ایمان لانے کے لیے دل کی شہادت ضروری ہے کیونکہ روایات کا دامن کذب سے آلودہ ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے اور ربّانی کلام کی نشانی یہی ہے کہ اسکی تعلیمات کی سچائی پردل گواہی دے۔پس خدائے کریم و رحیم جوکہ عادل و منصف ہے اسطرح کی تکلیف ما لایطاق کو جس کے صدق و کذب کا دل پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا کس طرح تجویزکرے گا۔باوجودیکہ اس اعتقاد پر تمام ہندو متفق نہیں؟ ہندومؤرخین یہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں اشخاص ہم عصر تھے اور لوگوں کے ساتھ ملتے جلتے،کھاتے پیتے ، بول وبراز کرتے تھے اور اپنی بیویوں سے تعلقات قائم کرتے نیز ان سے امورِ فواحش بھی سرزد ہوئے۔چنانچہ ہنود کی کتب کے مطالعہ کرنے والوں پر یہ تمام بیان مخفی نہیں ہے۔اور اس قوم کے تأویل کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ تینوں فرشتے تھے جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اور ان کے دانشور کہتے ہیں کہ یہ تینوں زمانہ کے نام ہیں، اور وہ زمانہ کو تین جزو میں تقسیم کرتے ہیں۔ملل ونحل اور مصنّف اور دبستان کے مصنّفین یہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں میں سے ایک فرقہ ان تینوں اشخاص کے بارہ میں کہتا ہے کہ یہ خصیتین و آلہئِ تناسل سے تعبیر ہیں اور پھر وہ دلائل میں