مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 491
دروازے تک پہنچ جائے۔پس جو نعمت عظمٰی خدائے کریم ورحیم نے ہم لوگوں پرفرمائی ہے اس کے شکر کو ہی عبادت کہتے ہیں اوروہ نعمت یہ ہے کہ پہلے ہمیں عدم سے وجود میں لایا اور اسکے بعداپنی ذات کا جلوہ دکھایا اپنی توحید کے اقرار کو ہمارے دلوں پر ثبت کیا اور اپنے کلام کوہمارے کانوں تک پہنچایا پھر اپنے کلام کے آفتاب کو ہم پر بھیجا۔اس امر کا جواب کہ ذات کامل الصفات کو مخلوق کی ستایش سے کیا فخر ہو سکتا ہے یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی ذات و صفات کی کامل محبت تقاضا کرتی ہے کہ ہر شخص جو ہر آن گھاٹے میں جا رہا ہے۔وہ خدا کے حضور اس طرح تذلل اختیار کرے کہ اس طریق پر اسکے افضال مخلوق کی طرف اتریں اور وہ انواعِ مخلوقات کی بقاکا موجب بنیں۔پس عبادت اُسی طرح حکمت کامل کی مقتضی ہے جس طرح نوعِ انسان کی ظاہری صورت۔اور عبادت کے تمام طریق سورہ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نماز کی ہررکعت میں اسکو پڑھنا واجب اوراس کو چھوڑنا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔اب اس سورۃ مقدسہ کے معارف بیان کیے جارہے ہیں تا تُوخدا پرستی کی حقیقت کو سمجھ لے۔اللہ کا ارشاد ہے حمد صرف خدا کے لیے ہے جوتمام جہانوں کا رب ہے۔مہربانی پر مہربانی فرمانے والا۔ عدالت کے دن کا بادشاہ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں یعنی عبادت کرنا ہمارا کام اور قرب و معرفت تک پہنچانا تیرا کام ہے۔اس کے بعد آنے والی آیت میں استعانت کے معنی کی تشریح ہے جس کی وہ خودتعلیم فرماتا ہے۔ تو ہمیں راہِ راست کی طرف ہدایت دے ان لوگوں کی راہ کی طرف جن کو تُونے معرفت کے درجہ تک پہنچایا ہے۔جن پر تو ناراض نہیں ہوتااور جولوگ تجھ سے دورنہیں ہیں۔جاننا چاہیے کہ سے پہلے والی آیاتمیں عبادت کے معانی تعلیم کئے گئے ہیںاور کے بعد والی آیات میں استعانت کے معانی بتائے گئے ہیںیعنی مدد چاہنا جو کسی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں۔