مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 488
ترجمہ ہٰذَا کِتَابٌ رَحْمۃُ اللّٰہِ عَلٰی قَائِلِہٖ وَ قَابِلِہٖ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (۱)۔تعریف صرف تجھے ہی زیبا و درست ہے۔جو کوئی کسی کے بھی دروازے پر جائے تو وہ تیرے ہی دروازہ پر ہوگا۔(۲)۔اما بعد!میرا مخاطب وہ شخص ہے جو طالب حقیقت اورصدق و عدل پرقائم رہتا ہے۔(۳)۔مغروراورمتعصب لوگوں کی محفلوں میں نہیں بیٹھتا اوراستہزا اور بیہودہ باتوں پر کان نہیں دھرتا۔(۴)۔اور مکاروں کی باتوں میں نہیں آتا اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کی پیروی کا خواہش مند ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے۔(۵)۔قوم ہنود کی کتب میں تلاش حق اوربیان حقیقت گوئی کلیتاً نایاب (اور) وہم پرستی جابجاہے۔(۶)۔اور بیہودہ خیالی افسانے لکھے ہیں۔ایک گروہ اس اعتقادپر ہے کہ ہم خدائے بے مثل کے ساتھ کسی کوشریک نہیں ٹھہراتے۔(۷)۔ہم اس خیال سے برہما و بشن و مہادیو کو خدا سمجھتے ہیں کہ خدائے بے مثل (۸)۔ان تین پیکر سے مجسم ہوا اور اسکا دامنِ وحدت غبار آلودہ نہ ہوا۔اور جو بیگانے (۹)۔بت پرستی پر طعن کرتے ہیں۔ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ہم ان تینوں (کے ملاپ سے مل کر بننے والے۔مترجم)ایک پیکر کو (۱۰)۔اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ اویسہu کو پراگندگی سے روکیں اور دvل جو خواہشِ دید رکھتا ہے اس آرزو کی تکمیل کریں ۱)۔اوربتدریج w مثال پرستی کو چھوڑتے ہوئے دریائے حقیقت میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور ہمارے بتx عبادت