مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 403
اور ان کے لوازمات سے موسوم و موصوف کرے اور دوسری طرف آپ کو انگیخت کرے کہ تم انہیں فرعون و ہامان کا خطاب دو۔درحقیقت موسیٰ وہی ہے جسے برسوں ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خلعت اصطفا سے مشرف فرمایا۔اب ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے عطا کردہ عہدہ سے پشیمان ہو کر اور اس سے اسے معزول کر کر پھر ایک ناعاقبت اندیش جلدباز کی طرح اسی کو فرعون و ہامان کہنے لگے اور اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ فرعون و ہامان اس موسیٰ کے اعدا و منکر ہیں جو اس وقت تمام فرعونی حیل اور مکائد اور جنود مجندہ کی امداد سے اس ضعیف و قلیل جماعت کے نیست و نابود کرنے کے درپے ہو رہے ہیں اور زور زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت جلد ان ضعفا کو معدوم کر دیں گے۔افسوس اگر آپ براہین احمدیہ کے تمام مختلف الہامات کو مجموعی نظر سے مطالعہ کرتے تو یقینا آپ پر واضح ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت مرزا صاحب ان تمام اوصاف و محامد کے پورے مستحق و مستوجب ہیں جس کا اب انہوں نے نہ مجدداً بلکہ برنگ دیگر دعویٰ کیا ہے اور آپ کانپ اٹھتے اور آپ کا دل دہل جاتا۔ایسے ناسزا فتاوے کے لگانے سے جو آپ ان کی نسبت لگا رہے ہیں اور ایسے ناپاک ناموں کو ان کی طرف منسوب کرنے سے جو بڑی جسارت سے آپ ان پر اطلاق کر رہے ہیں مگر رونا تو اسی بات کا ہے کہ ہاتھ تو آپ ایسے خطرناک اور زہرہ گداز کام میں ڈال دیں اور بڑی جرأت سے امام الکفر بنیں… مگر ایک متقی عفت شعار کی طرح یہ نہ سوچیں کہ حضرت مرزا صاحب کی تصانیف جدیدہ و قدیمہ کو بھی ایک دفعہ بغور نظر دیکھ لیں۔مولوی صاحب، صوفی صاحب، ملہم صاحب معاملہ دین و ایمان کا ہے۔بازیچہ طفلاں نہیں ہے کہ جو کچھ منہ میں آئے بیساختہ کہہ دیا جائے۔ہر ایک شخص اپنے منہ کی باتوں سے پکڑا جائے گا۔مسلمانوں کا کثیر گروہ اس طرف بھی روز بروز متوجہ ہو رہا ہے۔بنگالؔ، مدراسؔ، بمبئیؔ، برھماؔ، منی پور ؔاور رنگون ؔاور بنگلورؔ اور پنجابؔ ، مصرؔ، مدینہ منورہؔ، مکہ معظمہؔ، طائفؔ، طرابلسؔ الشام سے صدہا خدا ترس مسلمان بے تابانہ شوق سے اس سلسلہ عالیہ میں داخل ہو رہے ہیں اور جو جس کی استطاعت و وسعت اور اختیار میں ہے مال سے ، جان سے، قلم سے اس کارخانہ کی تقویت و تائید میں خرچ کر رہا ہے۔