مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 402
کیونکہ کبھی آپ کے الہام رساں نے حضرت مرزا صاحب کا نام لے کر تو آپ کو الہام نہیں کیا۔اور جیسا اب تک آپ کے تحریر شدہ الہاموں سے ظاہر ہے۔مرزا صاحب کے نام کو فقرہ الہام میں داخل کر کے تو آپ کو الہام نہیں دیا گیا اور میں اس وقت یہ بڑی بھاری اطلاع آپ کو دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب بڑے زور سے دعویٰ کر کے کہتے ہیں کہ ان کا نام لے کر یا ان کے نام کی طرف اشارہ کر کے ہرگز ہرگز آپ کو الہام نہ بخشا جائے گا۔اور اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ مفتری اور متقوّل ٹھہریں گے۔اور بہت جلد آپ کا ۱؎وہ تدارک ہو گا جو کاذبوں اور مفتریوں کا ہوا کرتا ہے۔لیجئے ایک اور فیصلہ کی راہ نکل آئی اور آسانی سے قضیہ پاک ہو گیا۔اب آپ کو قسم ہے اللہ جَلَّ شانُہٗ کی جو آپ اس طرف توجہ نہ کریں۔اگر آپ صادق ملہم ہیں تو دنیائے اسلام کو اپنے الہام کی صداقت دکھائیں اور ایک عالم کو فتن محیط سے نجات دلائیں۔یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ آج سے تیرہ برس پہلے براہین احمدیہ میں حضرت مرزا صاحب نے کئی ایک ایسے الہامات مشتہر کئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام موسیٰ اور ان کے مخالفین کا نام فرعون وہامان رکھا ہے چنانچہ لکھا ہے۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی ۲؎ وَ نَرٰی فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَجُنُوْدَ ھُمَا مَا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ۔۳؎ پھر آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا یہ الہام درج ہے کہ کوئی فرعون آپ کی نسبت کہتا ہے۔ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسیٰ۔۴؎ پھر’’ تحفہ بغداد‘‘ میں صفحہ ۴۱ میں آپ کا یہ الہام درج ہے۔اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی فَاصْبِرْ عَلٰی جَوْرِالْجَآئِرِیْنَ۔۵؎ آپ اب خدا کے لئے غور کریں یہ سب الہامات آپ کے الہامات سے بہت پہلے مشتہر ہو چکے ہیں۔اس سے کس کا موسیٰ اور کس کا فرعون ہونا ثابت ہوتا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کے الہامات اور کلام میں تضاد اور تناقض جائز ہے اور کیا وہ اپنی مرضی سے چاہتا ہے کہ حق و باطل کو ملتبس اور مختلط کر دے کہ ایک طرف تو برسوں پہلے حضرت مرز ا صاحب کو جناب موسیٰ کے نام ۱؎ ناظرین الحکم کو معلوم رہے کہ یہ شخص اس خط کے لکھے جانے کے بعد بہت جلد مرگیا اور اس طرح پر اس کا مفتری علی اللہ ہونا ثابت ہوگیا۔فتدبروا… (ایڈیٹر) ۲؎ تذکرہ صفحہ ۶۰۳ ایڈیشن ۲۰۰۴ء ۳؎ تذکرہ صفحہ ۵۵۰ ایڈیشن۲۰۰۴ء ۴؎ تذکرہ صفحہ ۱۶۹ ایڈیشن۲۰۰۴ء ۵؎ تذکر ہ صفحہ ۱۹۵