مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 399

اَلْفَارُّ مِنَ الطَّاعُوْنِ کَالْفَارِّمِنَ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِیْہِ لَہٗ اَجْرُ شَہِیْدٍ۔۱؎ یعنی طاعون سے بھاگنے والا ایسا ہے جیسا کہ جنگ سے بھاگنے والا اوراس میں صبر کرنے والے کے واسطے شہید کا اجر ہے۔یہ حدیث بھی ویسی ہی ہے جیسا کہ عَدْوٰی والی حدیث یعنی طاعون کو بجائے خود ایک قادر مقتدر چیز سمجھ کر انسان کو اس سے خوف نہیں کھانا چاہیے بلکہ اس کو خدا کے ہاتھ میں اور خدا کا ایک خادم سمجھنا چاہئے اوراس سے بھاگ کردوسرے شہروں میں جانا انسان کو نجات نہیں دے سکتا بلکہ خدا کے حکم کے مطابق انسان کو چاہئے کہ اپنی جگہ پر قیام رکھے اور صبر کرے پھر اگر حکم خداوندی کی اطاعت میں مارا بھی جائے تو بسبب اس اطاعت اورصبر کے اس کے واسطے شہید کا سا اجر ہے۔یہ معنے تو اس حدیث کے صاف ہیں۔لیکن اصل میں اس حدیث شریف میں ایک پیشگوئی ہے یعنی ایک زمانہ میں ایک ایسا طاعون پڑے گا جو مومنوں اور غیرمومنوں کے درمیان جنگ کا حکم رکھتا ہوگا۔جیساکہ آنحضرت ؐ کے زمانہ میں کافر بذریعہ جنگ کے جو ان کے لئے عذاب الٰہی تھا ہلاک ہوئے۔ایسا ہی اس زمانہ میں غیرمومن بذریعہ طاعون کے ہلاک ہوں گے اوراس وقت دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ایک وہ جو غیر مومن ہوں گے وہ طاعون کو بُرا مانیں گے اوراس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر ان کے واسطے کوئی مفر نہ ہوگا وہ اس جنگ میں بہرحال ہلاک ہوں گے۔اور دوسرے مومن ہوں گے جو طاعون کو ایک نشانِ الٰہی سمجھیں گے اوراس کی قدر کریں گے اور وہ ان کے واسطے ازدیادِ ایمان کا موجب ہوگا اور وہ صبر کے ساتھ اس کے نتائج کو دیکھیں گے۔اگر ان میں سے فوت بھی ہو جائے گا تو جیسا کہ جہاد کے وقت مرنے والے مومن شہید ہوتے ہیں ایسا ہی وہ بھی شہید ہوں گے۔پس یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بڑی پیشگوئی ہے جو اس زمانہ میں آکر پوری ہوئی ہے۔امید ہے کہ یہ بیان آپ کے لئے کافی ہوگا۔اور اگر کسی امر اور میں شبہ باقی ہو تو پھر تحریر فرماویں۔٭ والسلام آپ کا خادم عاجز محمدصادق گورداسپور ۱؎ مسند احمد بن حنبل۔مسند المکثرین من الصحابہ۔مسند جابر بن عبد اللہ ٭ الحکم نمبر۲۳، ۲۴ جلد۸ مورخہ۱۷،۲۴ ؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷،۸