مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 379
جو انسان اُن کو شناخت نہیں کرسکتا اور سعید آدمی چاہتا ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں تو اچھا ہو۔لیکن اگر آپ کو خیال ہے کہ یہ کام انسانی عام طاقتوں کا ایک عام نتیجہ بلکہ اُس سے بھی گرا ہواہے اور خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہیں تو یہ ایک بیماری ہے جس کی جڑ نفسانی تکبرّ ہے اگر اس عاجز کے ہاتھ سے دور ہو جائے تو شاید مجھ کو اس کا ثواب ہو اور شاید آپ ایسے ہو جائیں کہ ہماری دینی خدمات کے کام آئیں۔لہٰذا میں آپ کی اس درخواست کو بسروچشم قبول کرتاہوں جو آپ نے اپنے خط کے اخیر لکھی ہے کہ میں بمقابل رسالہ لکھنے کے لئے آیا ہوں بشرطیکہ باضابطہ اس امر کا فیصلہ ہو جائے کہ عربی انشاء پردازی کے لحاظ سے جس جانب کا رسالہ بلحاظ اغلاط انقص ہوگا اس کو اپنے دعویٰ زباندانی یا کشف اسرار قرآنی سے آئندہ دست بردار ہونا ہوگا فقط یہ آپ کی درخواست منظور ہے مگر عبارت اس طرح کی چاہیے کہ جس جانب کارسالہ جو دینی، علمی مضامین پر مشتمل ہو بلحاظ اغلاط و بلحاظ دیگر لوازم بلاغت وعدم بلاغت مرتبہ صحت اور عمدگی سے گرا ہوا ہو ایسا شخص آئندہ دعویٰ زبان دانی سے اورنیز دعویٰ کشف اسرار قرآنی سے دست بردار ہو اور چونکہ کشف اسرار قرآنی الہام کے ذریعہ سے ہے اس لئے میں یہ بھی قبول کرتا ہوں کہ اگر آپ کا بالمقابل رسالہ جو مضامین دینیہ پر مشتمل ہو بیان معارف میں باوجود امتزاج بلاغت و فصاحت اور رنگینییٔ عبارت میرے رسالہ سے بڑھ جائے تو پھر اپنے الہام کے عدم صحت کا مجھے قائل ہوناپڑے گا مگر اس مقابلہ کے لئے میری کتابوں میں سے وہ کتاب چاہیے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کے الہام نے بے نظیری ظاہر کی ہے۔سو میں آپ کو اعلام دیتا ہوں کہ ان دنوں میں نے ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام نور الحق ہے اور اس کے دو حصے ہیں۔ایک حصہ نصاریٰ کے ردّ میں اور دوسرا خسوف وکسوف کے بیان میں اور دو خواب اوردو الہام سے مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ دشمن اورمخالف اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہے گا۔اوراگرچہ بہت ہی تھوڑا کام ہے لیکن میں نے عیسائیوں کو اس کے مقابل بنانے کے لئے دو مہینے کی مہلت دے دی ہے۔آپ کے لئے تو صرف پندرہ دن کی مہلت کافی ہے لیکن اس لحاظ سے کہ آپ باربار جھگڑا نہ کریں دو مہینے کی مہلت آپ کو بھی دیتا ہوں ایک مہینہ تالیف کے لئے اور ایک مہینہ شائع کرنے اور چھاپنے کے لئے اگر دو مہینے میں چھپ کر شائع نہ ہو جائے تو معاہدہ فسخ ہوگا۔اورالزام گریز آپ