مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 378
اللّٰہُ فِیْکَ۔بَارَکَ اللّٰہُ عَلَیْکَ۔اُنْظُرْ۔بعض جگہ مِنْ کی جگہ عَنْ اور عَنْ کی جگہ مَنْ اور فا کی جگہ با اور باکی جگہ فا اورنئے محاورہ میں بہت فرق آگیا ہے۔غرض یہ بڑا نازک امرہے۔مجھے تعجب ہے کہ آپ کیوں اس میں پڑتے ہیں اور کیوں ایسا دعویٰ کرتے ہیں کہ میں صرفی نحوی غلطیاں ملک میں شائع کروں گا۔عزیز من! اگر کوئی واقعی غلطی ہوگی تو ہمیں کب انکار ہے۔لیکن اگر بعض آپ کی قراردادہ غلطیاں آخری تحقیقات سے غلطیاں ثابت نہ ہوئیں تو اس شتاب کاری کی کس کو ندامت ہوئی۔نکتہ چینوں نے حریری کی بھی غلطیاں نکالیں بلکہ ان دنوں میں ایک خبیث طبع بیروتگی کے عیسائی نے قرآن کریم کی نکتہ چینی کی ہے۔پھر جب کہ بدباطن معترض اعتراض کے وقت پر قرآن شریف سے بھی حیانہیں کرتے اور اہل زبان کی نظم ونثر پربھی حملے ہوئے تو پھر میں کیونکر کہوں کہ میں ان حملوں سے بچ سکتا ہوں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بات سچ ہے کہ نکتہ چینی آسان اور نکتہ آوری مشکل ہے۔مجھے ایک بات یاد آئی ہے اورمعلوم نہیں کہ کب کا واقعہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی معمارعمارت بنا رہاتھا اور ایک فضول گوجاہل اس کے سر پر کھڑا ہوا اور اس کی عمارت میں نکتہ چینی شروع کی کہ یہ طاق خراب ہے اور یہ شاہ نشین ٹیڑھا ہے معمار کاریگر اور حلیم تھا مگر غصّہ آیا اور اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ اگر تیری نکتہ چینی کی بنا کسی واقفیت پر ہے تو ذرا لگا کر مجھے بتلا ورنہ ایسی نکتہ چینی سے شرم کر جس کی بنانادانی اور ناتجربہ کاری پر ہے۔عزیزمن! دنیا میں بہت سے ایسے نکتہ چیں ہیں ان کو اپنی لیاقت کاتب ہی پتہ لگتا ہے کہ جب مقابل پر کوئی کام کرنے لگیں۔علمی معارف کو فصیح اور بلیغ اوررنگین کلام میں کماحقّہ انجام دینا کوئی آسان بات نہیں ہاں نکتہ چینی کاکرنا بہت آسان بات ہے۔ایک گورا ریل پر سوار ریل کے موجد پر سو سو اعتراض کرتاہے کہ اس کے کام میں یہ کسر رہ گئی ہے اور اُن مشکلات کو نہیں سوچتا جو اُس کو پیش آئیں اور جن میں وہ کامیاب ہوا۔میں ایک دینی کام میں لگا ہواہوں اور میں ایک کمزور اوربوڑھا آدمی ہوں اور بہت کم وقت ہوگا کہ کسی کام میں میں مصروف نہ ہوں اور آپ جوان ہیں اورعلمی طاقت کا بُت بھی آپ کے ساتھ ضرور ہوگا خدا تعالیٰ اُس کو دورکرے اورآپ ناراض نہ ہوں بہت سے ایسے بُت ہیں