مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 282

حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ حضرت نواب محمد علی خاں رضی اللہ عنہ کے مورث اعلیٰ شیخ صدر الدین جلال آباد کے باشندہ تھے۔شیروانی قوم کے پٹھان تھے جو ۱۴۶۹ء میں سلطنت بہلول لودھی کے زمانہ میں اپنے وطن سے ہندوستان میں آئے اور ایک قصبہ آباد کیا جس کا نام مالیرکوٹلہ ہے۔آپ کے والدماجد کا نام نواب غلام محمد خاں صاحب تھا۔ابتدائی تعلیم چیفس کالج (انبالہ و لاہور) سے حاصل کی۔آپؓ ۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۴ء تک محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے۔اور آپؓ نے علی گڑھ کے مشہور سٹریجی ہال کی تعمیر میں پانچ صد روپیہ چندہ دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود ؑ سے خط و کتابت کا آغاز آپ کے استاد مولوی عبد اللہ فخری کاندھلوی (بیعت ۴؍مئی ۱۸۸۹ء) کی تحریک سے ہوا۔حضرت نواب صاحب ؓ اپنے ایک خط میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو لکھتے ہیں۔’’ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں۔بلکہ مخالفانِ اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لودیانہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کو بعد کی خط و کتابت نے