مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 138
مکتوب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبیّ اخویم ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب سلّمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور جو خط مولوی محمد علی صاحب کے نام آیا تھا۔میں نے اس کو سنا ہے۔مجھے تعجب ہے کہ کیونکر مخالف لوگ ہم پر تہمتیں لگاتے ہیں۔تکفیر کے معاملہ میں اصل بات یہ ہے کہ پہلے میں ان تمام لوگوں کو کلمہ گو خیال کرتا تھا اور کبھی میرے دل میں نہیں آیا کہ ان کو کافر قرار دوں پھر ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے میری نسبت ایک استفتاء تیار کیا اور وہ استفتا ء مولوی نذیر حسین دہلوی کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے فتویٰ دیا کہ یہ شخص اور اس کی جماعت کافر ہیں۔اگر مر جاویں تو مسلمانوں کی قبروں میں ان کو دفن نہیں کرنا چاہیے۔پھر بعد اس کے دو سو مہر تکفیر کی اس فتوے پر مولویوں کی لگائی گئیں۔یعنی تمام پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے اس پر مہریں لگا دیں کہ درحقیقت یہ شخص کافر ہے۔بلکہ یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ کافر ہیں۔اور اگر یہ مسلمان ہیں تو پھر ہم کافر ہیں کیونکر حدیث صحیح میں آیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کو کافر کہے تو کفر اُلٹ کر اسی پر پڑتا ہے۔پس اس بنا پرہمیں ان لوگوں کو کافر ٹھہرانا پڑا۔ورنہ ہماری طرف سے ہرگز اس بات کی سبقت نہیں ہوئی کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ان لوگوں نے خود سبقت کی۔اس کا فتویٰ پہلے ان لوگوں کی طرف سے شائع ہوا۔ہم نے کوئی کاغذان لوگوں کی تکفیر کا شائع نہیں کیا۔اب جس شخص کو یہ امر گراں گذرتا ہو کہ اس کو کیوں کافر کہا جائے تو اس کے لئے یہ سہل امر ہے کہ وہ اس بارہ کااقرار شائع کر دے۔کہ میں ان لوگوں کو کافر نہیں جانتا بلکہ وہ لوگ کافر ہیں جنہوں نے ان کو کافر ٹھہرایا۔اسی بات کا ہمارے مکفروں مولوی محمد حسین وغیرہ کو اقرار ہے کہ بموجب اصول اسلام کے مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے پس جبکہ پنجاب ہندوستان کے تمام مولویوں نے مجھے اور میری جماعت کو کافر ٹھہرایا اور عدالتوں میں بھی لکھا دیا کہ یہ کافر