مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 131
دُنبل ہوں گے۔چنانچہ وہ داغ دُنبل ان کے جسم پر سے دکھائے گئے۔پھر تھوڑی دیر ٹھہرے۔کھانا کھایا۔چائے پی اور چلے گئے۔خاکسار اخبار بدر میں کتابت کا کام کیا کرتا تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر اخبار تھے۔بعض وقت مجھے رقعہ لکھ دیا کرتے کہ رقعہ لے جائو اور حضور ؑ سے خدا کی تازہ وحی یعنی تازہ الہامات لکھوا لائو۔چنانچہ خاکسار آتااور دروازہ پر دستک دیتا تو بعض وقت حضور ؑ خود دروازہ پر آ جاتے ورنہ کوئی خادمہ رقعہ لے جاتی اور حضور ؑ سے تازہ الہامات لکھوا کر لے آتی۔اور کبھی حضور ؑ خود لکھ کر لے آتے اور دے دیتے۔ایک مرتبہ حضور ؑ فرما رہے تھے کہ بعض وقت اشعار میں اپنے مضامین کو بیان کرنے کی ہمیں ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ان کو نثر عبارت میں ہزار پیرایہ لطیف ہی کوئی صداقت بتلائی جاوے مگر نہیں سمجھتے۔لیکن اسی مفہوم کو اگر ایک برجستہ شعر میں منظوم کر کے سنایا جاوے تو شعر کی لطافت ان پر بہت کچھ اثر کر جاتی ہے۔ایک مرتبہ مرزا غلام اللہ مرحوم کے پاس رتّڑ چھتّڑ ضلع گورداسپور والے صاحبزادے آئے اور ان کے پاس ٹھہرے۔حضور ؑ کی زیارت کی خواہش کی۔دونوں صاحبزادے وضو کر کے مسجد مبارک میں پہلی صف میں جا بیٹھے۔حضور ؑ نماز کے لئے تشریف لائے اور نماز پڑھا کر بیٹھ گئے۔حضور ؑ نے مسنون طریق پر صاحبزادگان سے خیروعافیت پوچھی۔تھوڑی دیر کے بعد چھوٹے صاحبزادے نے عرض کیا کہ حضور ہم پیری مریدی کا کام کرتے ہیں اور بعض وقت ہمیں رمضان شریف بھی باہر ہی آجاتا ہے اور سارا سارا سال ہی سفر میں گذر جاتا ہے۔حضور ؑ نے فرمایا۔تو پھر یہ آپ کا سفر سفر نہیں ہے۔آپ پوری نمازیں پڑھیں۔لیکن اس بات کے سننے سے حضور ؑ کا چہرہ سرخ ہو گیا کہ یہ اب اسلام کی حالت ہو گئی ہے کہ لوگوں کے دروازوں پر دھکے کھاتا ہے۔فرمایا جب آپ ہادی ہیں اور رہبر ہیں اور چشمہ ہدایت کے ہیں تو پھر کیوں آپ لوگوں کے دروازوں پر جاتے ہیں۔لوگوں کو چاہیے کہ آپ کے پاس آئیں اور آپ سے سیراب ہوں۔کیونکہ ہمیشہ پیاسا چشمے پر آتا ہے تاکہ اپنی پیاس دور کرے۔کبھی چشمہ چل کر پیاسے کے پاس نہیں گیاکہ آ تجھے پیاس لگی ہے مجھ سے پانی پی لے۔٭ ٭ تلخیص از رجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) نمبر۷ صفحہ ۵۲ تا ۵۶