مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 130

سن بیعت ۱۹۰۴ء حضرت منشی محمد حسین صاحبؓ کاتب ولد میاں نبی بخش صاحب حال مقیم قادیان دارالامان آپ بیان کرتے ہیں کہ میں چھوٹا بچہ ہی تھا۔قریبا۷ یا ۸ سال کی عمر ہو گی کہ ایک مرتبہ چھوٹے بچے جن میں میں بھی تھا، رات کے وقت کاغذ کی پتلیوں کا تماشہ حضور ؑ کے گھر کے صحن میں کر کے کھیل رہے تھے کہ حضور ؑ تشریف لائے تو اس وقت میم کا سوانگ ایک لڑکے کو بنایا ہوا تھا تو آپ ؑ دیکھ کر خفا ہوئے اور منع فرمایا کہ کسی کی نقل اور سوانگ نہیں بھرنا چاہیے۔کیونکہ جو کوئی کسی قوم کا مثیل بنتا ہے وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔آپؑ نے منع فرمایا اور روکا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک انگریز اور ایک لیڈی امریکہ سے حضورؑ کی زیارت کے لئے قادیان آئے تو ان دنوں دفتر محاسب بیت المال ابھی نیا نیا بنا تھا۔یہاں ان کو ٹھہرایا گیا اور حضور ؑ کو اطلاع دی گئی۔حضور ؑ کی طبیعت قدرے ناساز تھی۔لمبا چُغہ اور کمر میں پٹکا پہن کر تشریف لائے۔انگریز سے حضور ؑ نے مصافحہ کیا لیکن لیڈی سے مصافحہ نہ کیا۔جس پر وہ شکستہ خاطر ہو گئی۔پھر اسے سمجھایا گیا کہ اسلام میں نامحرم عورتوں سے مصافحہ کرنا ناجائز ہے۔ترجمان حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے۔انہوں نے پوچھا کہ آپ کا مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔حضور ؑ نے فرمایا کہ ہاں اس پر انگریز نے پوچھا۔آپ کا کوئی نشان اور معجزہ۔تو حضور ؑنے فرمایا کہ آپ کا یہاں قادیان میں آنا بھی میرا نشان اور معجزہ ہے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے خبر دی ہوئی ہے کہ دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔یہاں قادیان میں کوئی سیرگاہ نہیں۔دارالخلافہ نہیں۔بڑا شہر نہیں۔تجارتی منڈی نہیں۔محض ایک گائوں ہے۔آپ کس واسطے تشریف لائے ہیں۔محض میری خاطر آپ آئے ہیں۔یہ آپ کا آنا میرا ایک نشان اور معجزہ ہے۔پھر میاں عبد الحی مرحوم چھوٹے بچے تھے غالباً چھ، سات سال کے ہوں گے۔خدا ان کی مغفرت کرے اور جنت میں جگہ دے۔وہاں موجود تھے۔ان کو پیش کیا گیا۔حضور نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری دعا سے پیدا ہوا ہے اور پیدا ہونے سے پہلے مجھے میرے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ اس کے جسم پر داغِ