مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 3
حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سابق ہریش چندر موہیال ولد مہتہ گوراندتہ مل صاحب سکنہ کنجروڑ دتاں تحصیل شکر گڑھ (سابق ضلع گورداسپور حال ضلع نارووال) پر اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کیا کہ پنڈت لیکھرام اور چوہدری رام بھجدت جیسے آریہ معاندینِ اسلام کی برادری میں سے ہونے کے باوجود پندرہ سولہ سال کی عمر میں حضرت امام الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شناخت کی توفیق عطا کی۔آپ کے والد نے زبردستی آپ کو قادیان سے اُٹھالے جانے کی کوشش کی جب کامیابی نہ ہوئی تو منت و لجاجت سے تحریری وعدہ حضور کی خدمت میں پیش کر کے چند دن کے لئے لے گئے لیکن وہاں جا کر گھر میں جو جانگلی علاقہ میں تھا اتنی کڑی نگرانی میں رکھا کہ کوئی مسلمان آ کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ اس آگ سے آپ کو صحیح و سلامت نکال لایا اور حضور کے قدموں میں دھونی رما کر بیٹھنے کی توفیق دی۔حضور کے وصال کے وقت آپ حضور کی خدمت میں ہی حاضر تھے۔آپ کا نام، ضمیمہ انجام آتھم میں تین سو تیرہ صحابہ میں ۱۰۱ نمبر پر ہے۔غیر مبائعین کے فتنہ کے وقت بھی آپ نے نہایت سرگرمی سے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔۱۹۲۴ء میں مصلح موعود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے سفر یورپ کے رفقاء میں آپ بھی شامل تھے اور روزانہ کے حالات بصورت خطوط قادیان ارسال کرنے کی آپ کو سعادت حاصل ہوئی جو بہت مقبول ہوئے۔فتنہ ارتداد ملکانہ کے موقعہ پر آپ نے اس علاقہ میں نہایت قابل قدر کام سرانجام دیا چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس ہزار اشخاص کے برابر قرار