مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 500
اطلاع کے لئے لکھا جاتا ہے کہ محمود احمد کی نسبت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی لڑکی سے ہو چکی ہے اور انہیں دنوں میں بشیر احمد کی نسبت آپ کے ہوئی۔سو یہ صلاح قرین مصلحت معلوم ہوئی کہ یہ دونوں نکاح ماہ اکتوبر تک کئے جائیں۔خلیفہ رشید الدین صاحب نے باوجود اپنی بے سامانی کے قبول کر لیا ہے اور ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء تاریخ نکاح قرار پا چکی ہے پس آپ بھی تاریخ سے اطلاع دیں چونکہ میر اسماعیل ماموں لڑکوں کا پندرہ اکتوبر تک اپنی ڈاکٹری کی پڑھائی پر چلے جائیں گے اس لئے ضرور یہ ہونا چاہیئے کہ پندرہ اکتوبر سے پہلے ہی یہ دونوں نکاح ہو جائیں آپ مناسب تاریخ سے اطلاع دیں۔مکتوب نمبر۶ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ محبیّ اخویم مولوی غلام حسن صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ باعث تحریر خط ہذا یہ ہے کہ میرے گھر میں اور نیز میں بھی اس امر کو مناسب سمجھتا ہوں کہ بشیر احمد کی بیوی اگرچہ خورد سال ہے چند ہفتہ کے لئے اس کو قادیان میں منگوایا جائے تا گھر میں اس کو اچھی طرح تعارف پیدا ہو جائے کیونکہ بچپن کے زمانہ کا تعارف دل میںبیٹھ جاتا ہے اور کسی طرح کی وحشت نہیں رہتی اور دلی تعلق پیدا ہو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ رسم ملک اور خاندان کے مطابق جہاں تک ممکن ہو لڑکی کے لئے زیورات طیار کئے جائیں تا بعد طیاری زیورات برخوردار بشیر احمد معہ ایک مخلصین کی جماعت کے لینے کے واسطے پشاور جاویں۔سو چونکہ سب سے اوّل ان امور کے بارے میں آپ سے دریافت کرنا ضروری ہے اس لئے یہ خط لکھا گیا ہے امید ہے آپ جہاں تک ممکن ہو سکے جلد تر جواب سے مسرور الوقت فرماویں تا زیورات اور پارچات کی طیاری کے لئے بندوبست کیا جائے۔باقی سب طرح سے خیریت ہے۔والسلام ۱۹۰۴ء الراقم۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ازقادیان