مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 44
ہے کیا اب بھی وہیں اجازت دیتے ہیں یا کوئی اور جگہ جو عاجز کے حال کے موزوں ہو۔دراصل جگہ کے بارہ میں عاجز از حد مضطر ہے۔گھر کی نسبت یہ حال ہے کہ پرسوں ڈپٹی کے بیٹے نے بذریعہ ڈاک نوٹس۱؎ دیا ہے کہ ایک ہفتہ تک مکان خالی کر دو ورنہ تین روپیہ ماہوار کرایہ مکان واجب الادا ہوگا۔اس دقّت کے رفع کے لئے بھی حضور دعا فرماویں کہ بے منت غیرے کوئی جگہ مولا کریم میسر کرے۔۱۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء والسلام والاکرام عریضہ نیاز مسکین ضیاء الدین عفی عنہ مکتوب نمبر۹ژ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حکیم فضل دین صاحب سے دریافت کر لیجئے کیا مہمان خانہ میں آپ کے لئے جگہ نہیں اور عنقریب میرے اس دالان کے پیچھے ایک مکان بننے والا ہے اس میں آپ رہ سکتے ہیں بالفعل گزارہ کر لیں کوئی گھرتلاش کر لیں۔والسلام نوٹ: اس پر دستخط موجود نہیں مگر تحریر حضور ؑکی ہے۔(مرتب) ۱؎ محترم قاضی عبدالسلام صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحبؓ نے مجھے لکھوایا کہ حضرت دادا صاحبؓ جب قادیان میں آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دارالمسیح میں رہائش کی جگہ دی تھی۔میری ولادت دسمبر ۱۹۰۲ء میںاس مکان میں ہوئی جہاں اب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان ہے۔یہ جگہ ڈپٹیوں کی تھی اور کرایہ پر لی ہوئی تھی۔