مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 449
مکتوب ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مجھ کو یہ بات سن کر بہت رنج ہوا اور دل کو سخت صدمہ پہنچا کہ تم اپنی والدہ مسماۃ نکیّ کی کچھ خدمت نہیں کرتے اور سختی سے پیش آتے ہو اور دھکے بھی دیتے ہو۔تمہیں یاد رہے کہ یہ طریق اسلام کا نہیں ہے۔خدا اور اس کے رسول کے بعد والدہ کا وہ حق ہے جو اس کے برابر کوئی حق نہیں۔خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جو والدہ کو بدزبانی سے پیش آتا ہے اور اس کی خدمت نہیں کرتا اور نہ ہی اطاعت کرتا ہے وہ قطعی دوزخی ہے۔پس تم خدا سے ڈرو۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔ایسا نہ ہو کہ بے ایمان ہو کر مرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ بہشت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کی والدہ کو رات کے وقت پیاس لگی تھی اس کا بیٹا اس کے لئے پانی لے کر آیا اور وہ سو گئی۔بیٹے نے مناسب نہ سمجھا کہ اپنی والدہ کو جگائے۔تمام رات پانی لے کر اس کے پاس کھڑا رہا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی وقت جاگے اور پانی مانگے اور اس کو تکلیف ہو۔خدا نے اس خدمت کے لئے اس کو بخش دیا۔سو سمجھ جائو کہ یہ طریق تمہارا اچھا نہیں ہے اور انجام کا ر ایک عذاب میں گرفتار ہو جاوے اور اپنی عورت کو بھی کہو کہ تمہاری والدہ کی خدمت کرے اور بدزبانی نہ کرے اور اگر باز نہ آوے تو اس کو طلاق دیدو۔اگر تم میری ان نصیحتوں پر عمل نہ کرو تو میں خوف کرتا ہوں کہ عنقریب تمہاری موت کی خبرنہ سنوں۔تم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کاقہر زمین پر نازل ہے اور طاعون دنیا کو کھاتی جاتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ اپنی بدعملی کی وجہ سے طاعون کا شکار ہو جائو۔اور اگر تم اپنے مال سے اپنی والدہ کی خدمت کرو گے تو خدا تمہیں برکت دے گا۔یہ وہی والدہ ہے کہ جو دعائوں کے ساتھ تمہیں ایک