مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 448
شدھی تو ہونا ہی ہے تو کیوں نہ قادیان سے ہی ہو آئوں جہاں اور مولوی میں نے دیکھے وہاں یہ بھی دیکھ لوں۔شیخ صاحب فرماتے ہیں۔مجھے یہ تو یاد نہیں کہ میں کس سن میں قادیان گیا۔البتہ اس وقت مولوی عبد الکریم صاحبؓ زندہ تھے۔سب سے پہلے میں نے مسجد میں مولوی عبد الکریم صاحبؓ کو دیکھا تو سمجھا یہی مرزا صاحب ہیں۔جب نماز کے وقت حضرت مسیح موعود ؑ باہر تشریف لائے تو سب کے سب ادب کے لئے کھڑے ہو گئے۔اس وقت میں نے جانا کہ یہ مسیح موعود ؑ ہیں۔حضرت شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریب دو ماہ دارالامان ٹھہرا۔خدا کا فرستادہ نبی ہم میں مغرب سے عشاء تک بیٹھتا اور میں اس سے نور حاصل کرتا۔دن میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی صحبت سے مستفید ہونے سے میرے تمام اعتراضات کے مفصّل اور مدّلل جوابات مل جاتے۔آخر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ قادیان والے جو اسلام پیش کرتے ہیں۔اس کا مقابلہ کوئی مذہب کر ہی نہیں سکتا۔یہ واقعی نور ہی نور ہے اور تمام مذاہب میں ظلمت، تاریکی۔اس کے بعد میں بیعت کر کے واپس آ گیا۔شیخ صاحب نے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بھی تبلیغ کی اور وہ خدا کے فضل کے ساتھ سب احمدی ہو گئے۔٭ ٭ تلخیص از الفضل نمبر۲۷۶ جلد ۲۶ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۴،۵