مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 414

مرحوم آئے ہیں۔زین الدین صاحب کو لے جانا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس رؤیا کی تعبیر کی جو منشی صاحب کی وفات پر دلالت کرتی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے آپ کا جنازہ پڑھا۔جنازہ کے موقع پرآپ ؓ نے فرمایا۔’’(زین الدین صاحب) یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے مخلصوں میں سے تھے۔بمبئی میں انجینئر تھے۔اب ضعیف العمر تھے۔بہت اونچا سنتے تھے لیکن بعد میں سیٹھ اسماعیل آدم صاحب ؓ کے سبب غیرمبائعین کے ہم خیال ہو گئے۔چونکہ خود وہ اونچا سنتے تھے اور سیٹھ اسماعیل آدمؓ کے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔اس لئے سیٹھ صاحب ہی ان کے کان تھے۔سیٹھ صاحب بہت مخلص تھے اور اب بھی وہ مخلص ہیں لیکن جب وہ کسی حد تک پیغامی ہو گئے تو یہ بھی کچھ سست ہو گئے اور ادھر متوجہ ہو گئے… میرے نزدیک غیرمبائعین کا جنازہ پڑھنا جائز ہے۔زین الدین کے متعلق بھی میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آئے ہیں۔میں نے دریافت کیا آپ کہاں؟ فرمانے لگے۔میں بھی آیا ہوں اور حضرت صاحب بھی آئے ہیں۔زین الدین کو لے جانا ہے۔میں نے اس سے سمجھ لیا کہ رؤیا ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ان کی عمر ۹۵ یا سو سال کے قریب تھی۔حضرت صاحب کے دیرینہ مخلص تھے… چند لوگ جنہیں حضرت صاحب بہت پیار کرتے تھے۔ان میں سے ایک زین الدین صاحب بھی تھے۔‘‘٭ ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفاصفحہ ۲۷۰ ، ۲۷۱