مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 158
پیر طریقت بھی تھے۔اسی وقت حسب ایماء آنجناب حضرت مسیح موعودؑ سے شرف بیعت حاصل کی اس کے بعد بالکل نیند نہ آئی۔آپ کی شادی ۱۸۷۷ء میں حضرت حکیم سیّد میر حسام الدین صاحب کی بیٹی سے ہوئی تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کے حضرت اقدس سے قدیمی مراسم تھے۔کیونکہ حضرت اقدس کا قیام حضرت حکیم سیدمیر حسام الدین کے ہاں ہوا کرتا تھا۔۱۸۷۹ء میں محکمہ پولیس میں عارضی طور پر مقرر ہوئے اور پھر اپنی خداداد لیاقت سے ۲۰ سال بعد انسپکٹر پولیس کے عہدے پر پہنچ گئے۔آپ کا نام رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۱۳۸ نمبر پر ہے۔آپ نے ۹؍جولائی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔آپ نے جلسہ ۱۸۹۲ء میں بھی شرکت کی۔جس کا ذکر حضرت اقدس ؑ نے آئینہ کمالاتِ اسلام میں فرمایا ہے۔’’(۲۱) سید خصیلت علی شاہ ڈپٹی انسپکٹر پولیس کڑیانوالہ ضلع گجرات‘‘ حضرت اقدس نے ایک تعزیتی خط میں حضرت حکیم سید میر حسام الدین رضی اللہ عنہ کو حضرت شاہ صاحب کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔سید خصیلت علی شاہ صاحب کو جس قدر خدا تعالیٰ نے اخلاص بخشا تھا اور جس قدر انہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق اور محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں ہمیں کیا خبر تھی کہ ا ب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہو گی۔‘‘ آپ کو شوگر کی تکلیف تھی۔کھاریاں قیام کے دوران آپ بیمار ہوئے۔۱۵؍ستمبر ۱۸۹۸ء کو ۴۲ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔گجرات میں آپ کا جنازہ پڑھا گیا۔حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی نماز جنازہ غائب ادا کی۔٭ ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحہ ۲۶۱ تا ۲۶۳