مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 157
حضرت سیّد خصیلت علی شاہ صاحبؓ ڈپٹی انسپکٹر ڈنگہ حضرت سید خصیلت علی شاہ رضی اللہ عنہ خاندان سادات کے چشم و چراغ تھے۔آپ کی اصل سکونت مالومہے تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ میں تھی۔آپ خوارزمی بخاری سیّد تھے۔آپ کے والد کا نام سیّدہدایت علی شاہ صاحب تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۵۶ء کی ہے۔بیعت کے وقت ڈنگہ ضلع گجرات میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس تھے۔آپ تین بھائی سیّد محمد علی شاہ صاحب ؓ، سیّد احمد علی شاہ صاحبؓ اور سیّدامیر علی شاہ صاحبؓ تھے۔حضرت شاہ صاحب ؓنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دریافت حال کے لئے اپنے محکمہ سے تین ماہ کی رخصت لی۔ان دنوں حضرت اقدس ؑ حویلی سندھی خاں کوتوالی امرتسر میں فروکش تھے۔حضرت اقدس ؑ ۷؍جولائی ۱۸۹۱ء کو دن کے دس بجے دیوان خانہ میں رونق افروز ہوئے۔حضرت سید محمد علی شاہؓ اور حضرت سید احمد علی شاہ ؓ بھی آپ کے ساتھ امرتسر گئے تھے۔حضرت اقدس ؑ نے واعظانہ تقریر شروع کی مگر حضرت شاہ صاحب ؓ پر نیند نے غلبہ کیا۔آپ نے اٹھ کر منہ پر پانی بھی ڈالا لیکن پھر نیند کا غلبہ ہوا۔دیکھا کہ ایک باغ میں داخل ہوتے ہیں۔اندر ایک حوض ہے جو خشک تھا۔پھر آپ جنوب کی طرف چلے گئے۔وہاں الماریاں اور طاق بنے ہوئے ہیں اور آپ کے والدصاحب کھڑے ہیں۔انہوں نے آپ سے فرمایا کہ یہ گھاس اور کتابیں اب طاق میں رکھ دو۔تعمیل ارشاد کی۔فوراً سر کو جھٹکا لگا اور معاً تفہیم ہوئی کہ تم پہلا علم اور حال بالائے طاق رکھو۔چونکہ آپ کے والد صاحب آپ کے