مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 107

حضرت مولوی الٰہی بخش صاحبؓ آف بنارس حضرت مولوی الٰہی بخش صاحب جن کو یہاں کی جماعت کا صدر کہنا چاہیے بنارس کے ایک بہت پرانے مدرسہ کے ہیڈ مولوی ہیں۔سینکڑوں ان کے شاگرد ہیں۔جس راستہ سے گزرتے ہیں، سب ہندو مسلمان عزت کے ساتھ آپ کو سلام کرتے ہیں۔اپنے تقویٰ اور ُخلق کے سبب ہرجگہ عزت و تعظیم سے دیکھے جاتے ہیں۔بنارس سے سب سے پہلے یہی صاحب اپنے دوست محمد کریم خاں کے ساتھ قادیان تشریف لائے تھے۔فرماتے تھے کہ ’’سب سے پہلے جو میں حضرت مسیح موعود کو عزت اورمحبت کی نگاہ سے دیکھنے لگا اس کا ذریعہ حضور کا ایک پرانا خط تھا جو کہ الحکم میں چھپا تھا۔جس میں کسی دعا کے درخواست کنندہ کو حضرت مرحوم ومغفور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے لکھا تھاکہ’’ ان دنوں میں بسبب مرض خارش تکلیف میں ہوں۔‘‘ فرمایا کہ اس فقرے پر میں حیران ہوا کہ ایک طرف مسیحیت کا دعویٰ اور دوسری طرف یہ سادگی اور صفائی کہ اپنی خارش کا حال خط میں لکھ ڈالا ہے۔ایک بناوٹی آدمی ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔اس سے میرا حسن ظن بڑھتا چلا گیا۔مولوی الٰہی بخش صاحب اپنے عزیز دوست بخشی عبدالرزاق صاحب کے ساتھ اکتوبر ۱۹۰۷ء میں قادیان تشریف لائے تھے اور یہاں سے لاہور گئے تھے۔ان دنوں میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے ان کو خط لکھا تھا جو کہ مولوی صاحب نے مجھے دکھلایا۔فقط اشارہ کرتا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔اس خط کی نقل درج ذیل ہے۔٭ ٭ بدر نمبر۹ جلد۱۰ مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۹