مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 70
مکتوبات احمد حضرت منشی محمد خان صاحب رضی اللہ تعالی عنہ مکتوب نمبرا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی اخویم محمد خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته جلد سوم آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔اگر مولوی حمید اللہ صاحب حسب شرائط ذیل بحث کرنا چاہیں تو قبول ہے۔(۱) مسیح ابن مریم کی حیات و وفات کی نسبت بحث ہو کہ قال اللہ وقال الرسول سے اس کا زندہ ہونا ثابت ہوتا ہے یا فوت ہونا اور ہماری طرف سے یہ عہد ہے کہ اگر ان کا زندہ ہونا ثابت ہو تو مسیح موعود کا دعوی ہم چھوڑ دیں گے اور الہام کو ربانی الہام نہیں سمجھیں گے کیونکہ اگر وہ زندہ ہیں تو پھر مسیح موعود وہی ہیں نہ اور کوئی۔سو اس بحث میں شرط ضروری یہی ہے کہ صرف مسیح کی وفات وحیات کی نسبت بحث ہو کیونکہ یہی بحث اصل ہے اور باقی سب فرع اور ہمیشہ فرع کا ثبوت یا عدم ثبوت اصل کے ثبوت یا عدم ثبوت کا تابع ہوتا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ بحث تحریری ہو مجھے باعث کثرت کا رفرصت نہیں۔صرف دو پرچے کافی ہوں گے۔پہلے مولوی حمید اللہ صاحب کو مسیح ابن مریم کی حیات کی نسبت لکھنا چاہیئے جس قدر چاہیں لکھیں اور دوسرے پرچہ میں میری طرف سے دلائل وفات ہوں گے اور اسی پر بحث ختم ہو جائے گی۔ناحق کا طول اور تضیع اوقات نہیں ہوگا۔سو اگر بلا کم و بیش منظور ہے تو بلا توقف تشریف لے آویں۔والسلام بخدمت جمیع احباب السلام علیکم۔اس خط کی بحفاظت نقل رکھ کر بجسم اس کو مولوی صاحب کی خاکسار محمد غلام احمد خدمت میں بھیج دیو ہیں۔۱۴ مئی ۹۱ء از لودیانه الفضل نمبر ۳۵ جلد ۵۴/۱۹ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۶۵ء صفحه ۳