مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 62
مکتوبات احمد ۶۲ جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ایک یہ بھی ہے کہ:۔فِيْكَ مَادَّةٌ فَارُوقِيَّةٌ اس میں کیا شبہ ہے کہ حضرت بجائے خود بھی فاروق ہی تھے لیکن اس وحی میں یہ ہے کہ تجھ میں فاروقی مادہ ہے اور اس کا ظہور آپ کی صلبی اولاد میں سے ایک اولوالعزم مولود کے ذریعہ ہونے والا تھا ، جو زبان وحی میں فضل عمر کہلایا۔بہر حال حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ وہ اس عہد کے فاروق کو دیکھیں گے اور یہ خواب اسی سال کا ہے جب کہ وہ مولود مبشر ، موعود عالم وجود میں آچکا تھا۔یعنی ۱۸۸۹ء۔پس میرے ذوق میں اس خواب کی تعبیر واقعات کے رنگ میں بھی نمایاں ہے اور میں حضرت ظفر کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس عہد مبارک کو پالیا اور حضرت فضل عمر کو دیکھ لیا۔مکتوب نمبر ۲ (عرفانی کبیر ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکر می اخویم منشی ظفر احمد صاحب نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تعدیل ارکان اور اطمینان سے نماز کو ادا کرنا نماز کی شرط ہے جس قدر رکوع سجود آہستگی سے کیا جاوے وہی بہتر ہے۔اسی طرح پر پڑھنے سے نماز میں لذت شروع ہو جاتی ہے۔سو یہ بات بہت اچھی اور نہایت بہتر ہے کہ رکوع سجود بلکہ تمام ارکان نماز میں تعدیل و اطمینان اور آہستگی سے ے تذکره صفحه ۸۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء