مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 57

مکتوبات احمد ۵۷ حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ جلد سوم حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ میری تحقیقات میں کپورتھلہ کی جماعت کے آدم ہیں۔عین عنفوانِ شباب میں انہوں نے براہین احمدیہ کو پڑھا اور اس نور سے حصہ لیا۔ان کا تاریخی نام انظار حسین تھا۔وہ ضلع مظفر نگر ( یو۔پی ) کے اصل باشندے تھے اور ایک شریف معزز اور عالم خاندان کے فرد تھے۔خاندان میں شرافت کے علاوہ دینداری کا ہمیشہ چر چا رہا اس لئے کہ یہ خاندان عرصہ دراز سے خاندان مغلیہ کے عہد میں مسلمان ہو چکا تھا اور اس عہد کی تاریخوں میں اس خاندان کے تذکرے آتے ہیں۔یہ قانون گو کہلاتے تھے۔قرآن کریم کے حفظ کرنے کا بھی شوق اس خاندان میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ خود حضرت منشی صاحب کے والد صاحب۔دادا صاحب۔پردادا صاحب سب حافظ قرآن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت منشی صاحب کو قرآن مجید کے حقائق و معارف کے ایک چشمہ جاریہ پر لا کر کھڑا کر دیا اور وہ سیراب ہو گئے اور دوسروں کو سیراب کرتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے اور اہلِ بیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت ان کے ایمان کا جز و اعظم تھا۔اس جگہ مجھے ان کی زندگی کے واقعات کی تفصیل مطلوب نہیں سرسری تعارف زیر نظر ہے۔بزرگانِ ملت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب کبار آپ کے ساتھ محبت رکھتے تھے جو دراصل خود ان کی اس محبت کا عکس تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا۔جی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب۔یہ جوان صالح ، کم گو اور خلوص سے بھرا ، دقیق فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار و انوار اس میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات و امارات اس میں پیدا ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور ان سے لذت اٹھاتا ہے اللہ اور