مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 544 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 544

مکتوبات احمد ۴۰۴ جلد سوم بے فروغ اور بے بنیا د لاف و گزاف ہے۔ایک مرد ضعیف اور پیر فرتوت کی عقل جاتی رہی ہے کہ خلاف قال الله قال الرسول ایسی بے اصل باتیں منہ پر لاتا ہے اگر آزمائش کے لئے پکڑا جائے تو خدا جانے کس قدر ذلت اٹھاوے لیکن ہماری طرف سے بہر حال رفق اور نرمی اور درگز ر چاہئے۔اگر اُن کا اشتعال حد سے بڑھ گیا تو پھر اُن کے لئے وہ وقت آ جاوے گا۔جس میں وہ خود اپنا چہرہ دیکھ لیں گے اُن کو یہ معلوم نہیں کہ انبیاء علیم السلام میں خدائی نہیں ہوتی اور آثار و خواص بشریت کے ان سے دور نہیں کئے جاتے۔تبلیغ احکام میں بیشک انبیاء معصوم و محفوظ ہوتے ہیں لیکن علاوہ تعلیمات اسلام کے امور زائدہ میں جیسے پیشگوئیاں ہیں جب وہ اجتہاد کرتے ہیں تو کبھی وہ مصیب اور کبھی مخفی بھی ہوتے ہیں۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک خوشه انگور دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ بہشتی انگور ہے اور ابو جہل کے لئے دیا گیا ہے اور خیال کیا کہ ابو جہل مسلمان ہو جاوے گا مگر آپ فرماتے ہیں کہ وہ میرا خیال صحیح نہ نکلا۔بجائے ابو جہل کے عکرمہ مسلمان ہوا اور پھر ایک جگہ صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ ایک زمین مجھ کو دکھلائی گئی اور کہا گیا کہ یہ تیری ہجرت کی جگہ ہے اور میں نے خیال کیا کہ وہ زمین ہجر یا یمامہ ہے جو یمن کے دیہات میں سے دو قصبے ہیں لیکن آخر کار یہ میرا خیال صحیح نہ نکلا اور ہجرت کی جگہ مدینہ نکلی۔ایسی اور کئی حدیثیں ہیں۔اب جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا بھی نہیں مانتا یعنی رسول اللہ تو یہ فرماتے ہیں کہ کبھی کسی پیشگوئی کے سمجھنے میں مجھ سے خطا ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ کبھی خطا نہیں ہوتا۔تو گویا رسول سے زیادہ دعویٰ رکھتا ہے۔شیخ سعدی ٹھیک فرماتے ہیں۔بزہدو ورع کوش صدق وصفا لیکن میفرائے اور میری طبیعت ہنوز بہت علیل ہے۔خارش کا بہت غلبہ ہورہا ہے۔اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں۔۲۱ نومبر ۱۸۹۱ء والسلام * راقم خاکسار غلام احمد بر مصطفے حمد الحکم نمبر ۲۲/۲۳ جلد ۱۵ مورخه ۲۱،۱۴ ستمبر ۱۹۱۱، صفحه ۴ ، ۵ از قادیان ضلع گورداسپوره