مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 456

مکتوبات احمد ۳۱۶ جلد سوم رکھ دیا۔انہوں نے اسے لے لیا اور دیر تک پڑھتے رہے۔ایک بجے کے قریب جوش۔انہوں نے اللہ اکبر کہا اور حضرت کو بیعت کا خط لکھ دیا اور لکھا کہ میرا دل حضور کے ملنے کو بہت چاہتا ہے۔مگر میرے پاس کرایہ نہیں۔حضور نے جواب لکھا کہ تو کل پر چلے آؤ۔خط ملنے پر انہوں نے لکڑی کندھے پر رکھی اور چند روٹیاں پکوا کر لے آئے اور مجھے کہا کہ میں قادیان جا رہا ہوں۔میں حیران ہوا اور ان کو روکا کہ اس طرح نہیں جانا چاہئے۔انہوں نے حضرت کا کارڈ دکھلایا کہ یہ حکم ہے۔میں نے کہا کہ اچھی بات ہے اگر تو کل پر جانا ہے تو آج رات کو آپ کو روانہ کر دیں گے۔لہذا رات کی گاڑی سے قادیان روانہ کر دیا۔صوفی تصور حسین صاحب کی بیعت کے بعد بریلی میں اور بھی شور پڑ گیا۔لوگ ان کے دشمن ہو گئے۔ایک دفعہ جب کہ وہ گلی سے گزر رہے تھے تو لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کرنے کی نیت سے ان کے سینے پر چاقو رکھ دیا۔صوفی صاحب نے اپنے دشمن سے کہا کہ تم اپنا کام کرو۔میں حضرت مرزا صاحب کو کبھی جھوٹا نہیں کہوں گا۔را بگیروں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے شور مچایا کہ ایک آدمی کو کیوں مارتے ہو۔اس شور پر بد معاش ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس طرح پر حافظ صاحب قادیان آگئے اور پھر آکر نہ گئے۔اکل حلال سے ان کو محبت تھی باوجودیکہ ایک رنگ میں صوفیوں اور مشائخوں کی زندگی بسر کی تھی مگر قادیان میں انہوں نے ہمیشہ محنت اور مشقت سے عار نہیں کیا۔مختلف قسم کی تجارتیں کیں۔میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ ایک قسم کی عسرت کی زندگی بسر کرتے تھے مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آتا تھا۔آخر مقبرہ بہشتی میں آرام فرما ہوئے (رضی اللہ عنہ ) یہ مختلف مکتوبات ان کے رقعہ جات کے جواب میں ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس ان کے اور بھی خطوط کی نقل تھی مگر وہ خدا تعالیٰ کی مصلحت سے ضائع ہو گئے۔(عرفانی کبیر)