مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 455
مکتوبات احمد ۳۱۵ حضرت صوفی سیّد حافظ تصور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام تعارفی نوٹ حافظ سید تصور حسین صاحب رضی اللہ عنہ بریلی کے رہنے والے تھے۔جب حضرت سید عزیز الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ بیعت کر کے بریلی پہنچے تو انہوں نے علم تبلیغ کو بلند کیا۔وہ نہایت جری اور نذیر عریاں تھے۔بریلی ایک خاص قسم کے علماء دین کا مرکز تھا اور اب بھی ہے۔ان کے جانے سے وہاں احمدیت کا گھر گھر چرچا ہونے لگا۔اسی سلسلہ میں حضرت صوفی سیّد تصور حسین صاحب رضی اللہ عنہ کو سلسلہ کی طرف اوّلاً مخالفانہ رنگ میں توجہ ہوئی جو آخر انہیں سلسلہ حقہ میں لے آئی۔حضرت سید عزیز الرحمن صاحب نے ان کے تذکرہ میں فرمایا : جلد سوم الغرض گھر گھر احمدیت کا چرچا تھا۔اس چرچے کی وجہ سے صوفی تصور حسین صاحب مرحوم و مغفور کو بھی توجہ ہوئی۔ان کو شاعری کا شوق تھا اور اس وجہ سے تمام بڑے بڑے امرائے شہر سے ان کا تعلق تھا۔عالم بھی تھے۔حافظ بھی تھے۔قرآن خوب یا د تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط دس بارہ صفحے کا لکھا اور تمام بڑے آدمیوں کو دکھایا کہ میں یہ خط مرزا صاحب کو بھیج رہا ہوں۔سب نے اس خط کی بڑی تعریف کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب یہ ملا تو انہوں نے مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس کا جواب لکھ دو۔مولوی صاحب نے ایک خط پر لکھا کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یا تو ہماری کتابیں پڑھو یا ہمارے پاس آ جاؤ۔جب وہ کارڈ بریلی میں پہنچا تو وہ اس کا رڈ کو لے کر تمام بریلی میں پھرے۔ہر شخص کو خط دکھاتے اور کہتے کہ دیکھو یہ مرزا صاحب کی علمی لیاقت ہے۔میرے خط کے جواب میں یہ کارڈ آیا ہے۔الغرض خوب مذاق اُڑایا۔میں ان سے اسی سبب سے ناراض ہو گیا۔سلام علیک تک جاتی رہی۔ایک لمبے عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔میں نے بغیر سلام علیکم کہنے خطبہ الہامیہ ان کے سامنے