مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 451
مکتوبات احمد مگر ۳۱۱ جلد سوم ک سمانے دگر گونه کار فراز آید از گردش روز گار سوائے اس کے کہ آسمان سے کوئی اور امر گردش زمانہ کی امر گردش زمانہ کی وجہ سے نازل ہو گویم ز تدریس اطفال حال که دارم دل از حال شاں پُر ملال اس زمانہ کے بچوں کی تعلیم کا کیا حال بیان کروں کہ میرا دل ان کی وجہ سے بہت رنجیدہ ہے میتر شود بست کس ولیکن بنرر مشکل این است بس ملتے ہیں بیسیوں استاد مل سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ صرف روپیہ سے کجا آں قناعت گزیں اوستاد کہ اند کے آمد از اتحاد پر وہ قانع استاد اب کہاں رہے جو اپنے اخلاص کے باعث تھوڑے گزارہ پر مل جاتے تھے بکوشیم و کہ آں خواہش و رائے یزداں بود ہے انجام کار آن بود کوشش کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی اور خواہش ہوتی فتاد است در فاضلال حرص و آز ہمہ جائیگاه شد در طمع باز عالموں کے دلوں میں حرص اور لالچ پیدا ہو گیا ہے اور ہر جگہ طمع کے دروازے کھل گئے ہیں طمع عہد ہائے گراں بگسلد از دلدار پیوند جاں بگسلد لالچ تو بڑے بڑے مضبوط اقراروں کو توڑ دیتا ہے بلکہ محبوب کے ساتھ گہرے ربط کو بھی تو ڑ دیتا ہے بجویند از حرص کثرت بمال ازاں خود فتد اندران اختلال یہ لوگ حرص کی وجہ سے کثرت مال چاہتے ہیں حالانکہ مال کمانے میں بھی حرص کی وجہ سے فتور پڑتا ہے دریغا ندانند این مردِ مان کہ آہستگی ہم رساند افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ آہستگی سے بھی ان کی یہ مراد پوری ہو سکتی ہے زمانه با بیذق آہستہ راند که ناگاه بر جائے فرزیں نشاند زمانہ نے بہت سے پیادے شطرنج کے آہستہ آہستہ بڑھائے جن کو آخر یکدم فرزین کی جگہ بٹھا دیا نظم این قدر ماجرائے پرفت بپوشی گر از من خطائے پرفت یہ تھوڑا سا حال میں نے نظم میں لکھا ہے اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو پردہ پوشی کر براں