مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 396

مکتوبات احمد ۲۵۸ جلد سوم مکتوب نمبر ۴ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عزیز مبارک احمد ۶ ارستمبر ۱۹۰۷ء بقضاء الہی فوت ہو گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔ہم اپنے رب کریم کی قضا و قدر پر صبر کرتے ہیں۔تم بھی صبر کرو۔ہم سب اس کی امانتیں ہیں اور ہر ایک کام اس کا حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔والسلام مرزا غلام احمد خاکسار عرض کرتا ہے کہ کہنے کو تو اس قسم کے الفاظ ہر مومن کہہ دیتا ہے۔مگر حضرت صاحب کے منہ اور قلم سے یہ الفاظ حقیقی ایمان اور دلی یقین کے ساتھ نکلتے تھے اور آپ واقعی انسانی زندگی کو ایک امانت خیال فرماتے تھے اور اس امانت کی واپسی پر دلی انشراح اور خوشی کے ساتھ تیار رہتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ہمارے حقیقی ماموں ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ حضرت مسیح موعود اپنے چھوٹے عزیزوں کی طرح خط و کتابت فرماتے تھے۔ان کی پیدائش ۱۸۸۱ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود نے ان کا ذکر انجام آتھم کے۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں۷۰ نمبر پر کیا ہے مگر چونکہ سید محمد اسمعیل دہلوی طالب علم کے طور پر نام لکھا ہے۔اس لئے بعض لوگ سمجھتے نہیں۔ست بچن میں بھی ان کا نام انہی الفاظ میں درج ہے۔