مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 395

مکتوبات احمد ۲۵۷ جلد سوم تو وہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔اب شکل وصورت کا زمانہ ہے۔میری نصیحت یہ ہے کہ شکل پر تسلی کر کے قبول کر لینا چاہئے۔مولود بے شک پڑھے۔آخر وہ تمہارا ہی مولود پڑھے گی۔حرج کیا ہے۔۳۱ را گست ۱۹۰۵ء والسلام مرزا غلام احمد ( آخر صفحہ کے بعد ) مکرر یہ کہ اس خط کے پڑھنے کے بعد صاف لفظوں میں مجھے اس کا جواب ایک ہفتہ کے اندر بھیج دیں۔وَالدُّعَا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خط بیاہ شادی سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق ایک نہایت ہی قیمتی فلسفہ پر مبنی ہے اور یہ جو حضرت صاحب نے خط کے آخر میں مولود کے متعلق لکھا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری ممانی صاحبہ اپنے والدین کے گھر میں غیر احمدیوں کے رنگ میں مولود پڑھا کرتی تھیں اور غالباً ان کے والد صاحب کو اصرار ہوگا کہ وہ بدستور مولود پڑھا کریں گی۔جس پر حضرت صاحب نے لکھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔جب لڑکی بیاہی گئی اور خاوند کے ساتھ اس کی محبت ہو گئی تو پھر اس نے ان رسمی مولودوں کو چھوڑ کر بالآ خر گو یا خاوند کا ہی مولود پڑھنا ہے۔سو ایسا ہی ہوا اور اب تو خدا کے فضل سے ہماری ممانی صاحبہ احمدی ہو چکی ہیں۔