مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 261

مکتوبات احمد ۲۰۰ جلد سوم کامیاب کر دے۔کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ 1۔ہر دن اس کی نرالی شان ہوتی ہے۔اس سے چند روز بعد حسن اتفاق سے ایک جگہ پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور عشاء کی نماز کے بعد چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور چند معزز خدام بھی حاضر خدمت تھے۔جن میں وہ شخص بھی تھا۔حضور نے ان احباب سے فرما دیا تھا کہ اب آپ لوگ آرام کریں، ہمیں ان سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔وہ لوگ اُٹھ کر چلے گئے اور وہ شخص اٹھ کر حضور کے پاؤں دبانے لگ گیا۔پیشتر اس سے کہ حضور کے ساتھ گفتگو شروع کرتے۔کشف میں حضور نے دیکھا کہ اس شخص نے حضور کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر دست ( اسہال ) پھر دیا اور پھر کشف ہی میں حضور نے دیکھا کہ اس کی دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کٹ گئی ہے۔حضور نے فرمایا کہ جب مجھے یہ کشف ہوا تو میں اس وقت سمجھ گیا تھا کہ اس معاملہ میں مجھے نہایت گندہ جواب دے گا۔چنانچہ اس نے حضور کو ایسے ہی جواب دیئے جو اس نوٹ کے شروع میں درج کئے جاچکے ہیں۔اس نشان کی طرف حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی میں میرا ذکر کر کے اشارہ فرمایا ہے۔اس کے بعد اس نے اپنی اس لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح کر دیا جس سے مجھے از سر نو پریشانی ہوئی۔اس بات کی حضور کو اطلاع پہنچ گئی۔جس پر حضور نے یہ خط نمبر ۱۲ لکھ کر مجھے اپنے پاس بلا لیا۔جب اس نے اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کر دیا تو اس کے بعد یہ واقعات اس کو پیش آئے کہ پہلے اس کا سب سے بڑا اور نو جوان لڑکا مر گیا۔جس کا اسے بہت ہی صدمہ پہنچا۔اس کے بعد اس کا پوتا چھوٹی عمر کا جوا سے بہت ہی عزیز تھا، مر گیا۔اس کے بعد اس کا دوسرا نوجوان لڑکا مر گیا۔اس کے بعد اس کی اسی بیوی کا انتقال ہو گیا اور ان سب کے واقعات وفات دیکھ کر آخر وہ خود بھی مر گیا اور اس کے مرنے کے بعد اس کی لڑکی کا خاوند بھی ایک لڑکا اور ایک لڑکی چھوڑ کر مر گیا اور وہ لڑکی بیوہ ہو گئی۔میری دوسری شادی اس شخص کی زندگی میں ہی حضور نے ایک جگہ کرا دی تھی جو فریقین کے لئے بفضلہ تعالیٰ بہت ہی مبارک ثابت ہوئی۔جب اس نے اس بات کو مشاہدہ کر لیا اور نیز اس پر مذکورہ بالا صدمات آئے تو وہ اپنے انکار پر بہت پچھتایا اور مجھے کہا کہ الرحمن: ٣٠