مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 260

مکتوبات احمد ۱۹۹ جلد سوم ( نوٹ ) حضرت مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ میرا ایک خاص جگہ پر نکاح ثانی کا ارادہ تھا جس کے لئے میں کوشش کر رہا تھا چونکہ اس لڑکی کا والد حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا معتقد تھا۔اس لئے حضور نے بھی اس کے لئے بہت کوشش کی اور لڑکی کے والد کو خود حضور نے بڑے زور سے کہا اور جو جو عذر وہ پیش کرتا رہا ان سب کی حضور نے تردید کی اور آخر یہاں تک فرما دیا کہ ان سب باتوں کا مجھے آپ ضامن سمجھیں۔مگر اس نے اپنی بیوی کی ناراضگی کا عذر کر کے صاف انکار کر دیا جس پر حضور فرماتے تھے کہ مجھے بہت رنج ہوا اور میں چاہتا ہوں کہ تازیست اس کی شکل نہ دیکھوں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد اسے حضور کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔جب حضور نے مجھے اس گفتگو کا واقعہ سنایا تو فرمایا کہ یہ کہتا ہے کہ میرا خدا اور میرا رسول اور میرا پیر میری بیوی ہے، جس جگہ وہ کہے گی وہاں کروں گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے نکاح ثانی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو ایک سے زیادہ نکاح کے متعلق ہے، اسے سنایا اور نیز اسے خود بھی اس کے متعلق ارشاد فرمایا۔جسے اس نے اپنی بیوی کی وجہ سے ڈر کر صاف انکار کر دیا۔حضور کی اس کوشش سے قبل جب حضور نے اس بات کے لئے دعا فرمائی تھی تو حضور کو اس بارہ میں یہ تین الہام ہوئے تھے (۱) ” ناکامی (۲) اے بہا آرزو که خاک شده ۲ (۳) فَصَبْرٌ جَمِيلٌ کے ہاں اس سے قبل حضور نے اس رشتہ کے لئے اس شخص کو خط لکھا تھا جس کے بعد حضور کو الہام ہوا ” نا کا می“ پھر بعد والے اور اس الہامی اطلاع کے بعد اس شخص کی طرف سے بھی نفی میں جواب آ گیا۔جس پر مجھے بہت گھبرا ہٹ ہوئی اور اس رشتہ سے نومید ہو گیا۔اور حضور کی خدمت میں بھی عرض کیا کہ اب کوشش بے فائدہ ہے کیونکہ نہ صرف ان کی طرف سے انکار ہوا ہے بلکہ الہام کے ذریعہ سے بھی معلوم ہو چکا ہے کہ اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔تو حضور نے فرمایا کہ نہیں ہم کوشش نہیں چھوڑتے بلکہ اب ہم خود اسے کہیں گے اور فرمایا کہ جو تجویز میں اور تدبیر میں ہم نے اختیار کی تھیں ان میں بھی ناکامی ہو چکی ہے اور ممکن ہے کہ کسی اور طریق سے اللہ تعالیٰ ہمیں ۱، ۲، ۳ تذکره صفحه ۶۴۴ مطبوعه ۲۰۰۴ء