مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 234

مکتوبات احمد ۱۷۳ جلد سوم حضرت مولوی محمد شادی خان صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ حضرت مولوی محمد شادی خاں صاحب سیالکوٹ کے باشندے تھے۔ابتدائے سنِ شعور سے ان کو اسلام کی عملی زندگی کا شوق تھا اور وہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت حکیم الامۃ مولانا نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے خاص احباب اور مخلصین میں داخل تھے جب وہ بزرگ اہل حدیث تھے۔مولوی محمد شادی خاں صاحب پر بھی یہ رنگ غالب تھا اور جب وہ احمدی ہوئے تو یہ احمدی ہو گئے۔ایک عرصہ تک وہ راجہ امرسنگھ آنجہانی (جموں و کشمیر ) کے خاص ملازموں میں رہے۔ان کی دیانت امانت مسلّم تھی۔جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ریاست جموں وکشمیر کی خدمت سے فارغ ہو گئے یہ بھی نوکری چھوڑ آئے اور کچھ عرصہ تک لکڑی کی تجارت کرتے رہے بالآ خر سب کچھ چھوڑ جاڑ کر قادیان ہجرت کر آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی والدہ صاحبہ مرحومہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کا بہت بڑا موقع دیا اور ان کے بعد ان کی اولا د بھی سلسلہ کی خادم رہی اور ان کی صاحبزادیاں اپنے علم وفضل کے لحاظ سے ممتاز اور خدمت سلسلہ میں مصروف ہیں۔خاکسار عرفانی کبیر کو یہ عزت اور فخر حاصل ہے کہ کچھ عرصہ تک ہجرت کے ابتدائی ایام میں مولوی محمد شادی خاں صاحب کو الحکم کی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر ان کے صاحبزادہ مرحوم عبد الرحمن کو بھی موقع ملا۔مولوی شادی خاں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق تھا اور وہ ایک وفادار اور جان نثار احمدی تھے۔سلسلہ کی تحریکوں پر ایسے کام کر گزرتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔منارۃ المسیح کے چندہ میں سب کچھ دے دیا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے سو آدمیوں کا ایک خاص گروہ تجویز فرمایا تھا کہ جو جو ایک ایک سو روپیہ دے دے، ان میں حضرت محمد شادی خاں بھی تھے انہوں نے گھر کا ساز و سامان فروخت کر کے دوسور و پیہ دے دیا۔