مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 227

مکتوبات احمد ۱۶۶ کہ میری کتاب براہین احمدیہ میں اس شہرت اور رجوع خلائق کی چوبیس سال پہلے میری نسبت ایسے وقت میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جب کہ میں لوگوں کی نظر میں کسی حساب میں نہ تھا۔اگر چہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ، براہین کی تالیف کے زمانے کے قریب اسی شہر میں قریباً سات سال رہ چکا تھا تا ہم آپ صاحبوں میں ایسے لوگ کم ہوں گے جو مجھ سے واقفیت رکھتے ہوں۔کیونکہ میں اس وقت ایک گمنام آدمی تھا اور اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ تھا اور میری کوئی عظمت اور عزت لوگوں کی نگاہ میں نہ تھی مگر وہ زمانہ میرے لئے نہایت شیر میں تھا کہ انجمن میں خلوت تھی اور کثرت میں وحدت تھی اور شہر میں ایسا رہتا تھا جیسا کہ ایک شخص جنگل میں۔مجھے اس زمین سے ایسی ہی محبت ہے جیسا کہ قادیان سے۔کیونکہ میں اپنے اوائل زمانہ کی عمر میں سے ایک حصہ اس میں گزار چکا ہوں اور اس شہر کی گلیوں میں بہت سا پھر چکا ہوں۔میرے اس زمانے کے دوست اور مخلص اس شہر میں ایک بزرگ ہیں یعنی حکیم حسام الدین صاحب جن کو اس وقت بھی مجھ سے بہت محبت رہی ہے۔وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ وہ کیسا زمانہ تھا اور کیسی گمنامی کے گڑھے میں میرا وجو د تھا۔اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے زمانے میں ایسی عظیم الشان پیشگوئی کرنا کہ ایسے گمنام کا آخر کار یہ عروج ہوگا کہ لاکھوں لوگ اس کے تابع اور مرید ہو جائیں گے اور فوج در فوج لوگ بیعت کریں گے اور باوجود دشمنوں کی سخت مخالفت کے رجوع خلائق میں فرق نہیں آئے گا بلکہ اس قدر لوگوں کی کثرت ہو گی کہ قریب ہو گا کہ وہ لوگ تھکا دیں۔کیا یہ انسان کے اختیار میں ہے اور کیا ایسی پیشگوئی کوئی مکار کر سکتا ہے کہ چوبیس سال پہلے تنہائی اور بے کسی کے زمانے میں اس عروج اور مرجع خلائق ہونے کی خبر دے؟ کتاب براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے، کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ اس ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ صاحبوں کے پاس بھی موجود ہے اور گورنمنٹ میں بھی موجود د ہے۔اگر کوئی اس عظیم الشان نشان میں شک کرے تو اس کو دنیا میں اس کی نظیر دکھلا نا چاہیئے۔جلد سوم