مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 226

مکتوبات احمد ۱۶۵ احباب سیالکوٹ کے نام تمہیدی نوٹ ے جلد سوم سیالکوٹ کو بھی سلسلہ کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عہد شباب کے آغاز میں کئی سال سیالکوٹ میں گزارے۔اس زمانہ کی یاد آپ ہمیشہ رکھتے۔چنانچہ جب ۱۹۰۴ء میں آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے تو آپ نے ایک لیکچر کے دوران میں اپنی صداقت کے نشانات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اور اگر میری نسبت نصرت الہی کو تلاش کرنا چاہے تو یادر ہے کہ اب تک ہزار ہا نشان ظاہر ہو چکے ہیں۔منجملہ ان کے وہ نشان ہے۔جو آج سے چوبیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا گیا اور اس وقت لکھا گیا جب کہ ایک فرد بشر بھی مجھ سے تعلق بیعت نہیں رکھتا تھا اور نہ میرے پاس کوئی سفر کر کے آتا تھا۔اور وہ نشان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأْتِيَكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ - يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی وہ وقت آتا ہے کہ مالی تائید ہر ایک طرف سے تجھے پہنچے گی اور ہزار ہا مخلوق تیرے پاس آئے گی اور پھر فرماتا ہے۔وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِّنَ النَّاسِ لا یعنی اس قدر مخلوق آئے گی کہ تو ان کی کثرت سے حیران ہو جائے گا۔پس چاہئے کہ تو ان سے بداخلاقی نہ کرے اور نہ ان کی ملاقاتوں سے تھکے۔پس اے عزیز و ! اگر چہ آپ کو یہ تو خبر نہیں کہ قادیان میں میرے پاس کس قد ر لوگ آئے اور کیسی وضاحت سے پیشگوئی پوری ہوئی۔لیکن اسی شہر میں آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ میرے آنے پر میرے دیکھنے کے لئے ہزار ہا مخلوقات اس شہر کے ہی اسٹیشن پر جمع ہو گئی تھی اور صد ہا مردوں اور عورتوں نے اسی شہر میں بیعت کی۔اور میں وہی شخص ہوں جو براہین احمدیہ کے زمانے سے تخمینا سات آٹھ سال پہلے اسی شہر میں قریباً سات برس رہ چکا تھا اور کسی کو مجھ سے تعلق نہ تھا اور نہ کوئی میرے حال سے واقف تھا۔پس اب سوچو اور غور کرو تذکر صفحه ۳۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء تذکره صفحه ۴۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء