مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 104
مکتوبات احمد ۹۶ جلد سوم میں فروکش ہوئے تھے۔اسی سفر میں ماسٹر مرلی دھر سے مباحثہ ہوا جو کتاب سرمہ چشم آریہ کی صورت میں شائع ہوا۔اس سفر کے برکات عظیم الشان ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا ”تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لودہانہ کا سفر ہے تیرے لئے مبارک کر دیا۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) ان عظیم الشان برکات میں سے ایک وہ ہے جو مصلح موعود اور پھر بشیر کے متعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ مکتوبات کی اس جلد کے شائع کرتے وقت حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد أَيَّدَهُ اللهُ الاَحَدُ نے خدا تعالیٰ کی وحی اور الہام سے مشرف ہوکر مصلح موعود ہونے کا دعوی کر دیا ہے اور اس کا اعلان دنیا میں ہو چکا ہے۔اسی سلسلہ میں ہوشیار پور، لاہور اور دہلی میں کامیاب جلسے ہو چکے ہیں۔خدا کا فضل اور رحم ہے کہ خاکسار عرفانی کبیر تو عرصہ دراز سے اس موعود کے متعلق ایمان رکھتا تھا جیسا کہ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے مگر اب کشف غطاء ہو گیا اور منکرین کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔تا ہم ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔آنکھ کے اندھوں کے لئے بینات اور حقائق کام نہیں آتے۔(عرفانی کبیر)