مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 89
مکتوب نمبر۵۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل عنایت نامہ پہنچا۔مبلغ سَو روپیہ پہلے اس سے پہنچ گیا تھا۔جزاکم اللہ خیراً۔اس عاجز کا دماغ نہایت ضعیف ہو گیا ہے۔کوئی محنت کا کام نہیں ہو سکتا۔ایک خط کا لکھنا مشکل ہے۔اللہ جلّشانہٗ غیب سے قوت عطا فرماوے۔مولوی محمد حسین بہت دور جا پڑے ہیں۔جو شخص اس دنیا سے دل نہ لگاوے اور اپنی حالت پر نظر کرے اور اپنے قصوروں کا تدارک چاہے خدا تعالیٰ اس کو بصیرت بخش دیتا ہے۔ورنہ ۱؎ کا مصداق ہو جاتا ہے۔مولوی محمد حسین ایک مقام اور ایک رائے پر ٹھہر گئے ہیں اور وہ مقام اور وہ رائے انہیں پسند آ گیا ہے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں اگر اُسی پر ان کی موت ہو تو انہیں اس طبقہ میں جاناپڑے گا جس میں محجوبین جایا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ صدق اور صادقین کی طلب ان میں پیدا کرے اور زنگ موجودہ سے انہیں نجات دے۔ورنہ ان کی خطرناک حالت ہے۔منقولی طور پر معلومات کی وسعت یا معقولی طور پر کچھ قیل و قال کا مادہ ایک ملحد میں بھی پیدا ہو سکتا ہے، جائے فخر نہیں۔اور نہ اس سے وہ قدوس خوش ہو سکتا ہے جس کی دلوں پر نظر ہے۔سچائی اور راستبازی اور انقطاع الی اللہ میں انسان کی نجات ہے۔ورنہ علم بھی ہو تو کیا فائدہ؟ چارپائے بُرَد کتابے چند۔محمدحسین کی حالت نہایت نازک ہے اور انہیں اس کی خبر نہیں۔٭والسلام علی من اتبع الہدٰی۔خاکسار غلام احمد ۷؍ دسمبر ۱۸۸۹ء از قادیان