مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 653 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 653

مولوی عبدالکریم صاحب جوا یک عجیب مخلص انسان تھے اور ایسا ہی اب مولوی برہان الدین صاحب جہلم میں فوت ہو گئے اور بھی بہت سے مولوی صاحبان اس جماعت میں سے فوت ہو گئے۔مگر افسوس ہے کہ جو مرتے ہیں ان کاجانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا۔پھر فرمایا :۔مجھے مدرسہ کی طرف دیکھ کر بھی رنج ہی پہنچتا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ بات اس سے حاصل نہیں ہوئی۔اگر یہاں سے بھی طالب علم نکل کر دنیا کے طالب ہی بننے تھے تو ہمیں اس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ہم تو چاہتے تھے کہ دین کے لئے خادم پیدا ہوں۔چنانچہ پھر بہت سے احباب کو بلا کر ان کے سامنے یہ امر پیش کیا کہ مدرسہ میں ایسی اصلاح ہونی چاہئے کہ یہاں سے واعظ اور مولوی پیدا ہوں جو آئندہ ان لوگوں کے قائم مقام ہوتے رہیں جوگزرتے چلے جاتے ہیں۔کیسا افسوس کا مقام ہے کہ آریہ سماج میں وہ لوگ پیدا ہوںجو ایک باطل کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر ہماری قوم سچے خدا کو پاکر پھر دنیا کی طرف جھک رہی ہے اوردین کے لئے زندگی وقف کرنا محال ہو رہا ہے۔فرمایا: سب سوچو کہ اس مدرسہ کو ایسے رنگ میں رکھا جاوے کہ یہاں سے قرآن دان واعظ مولوی لوگ پیدا ہوں جو دنیا کی ہدایت کا ذریعہ ہوں۔والسلام ۶؍ ستمبر ۱۹۰۵ء خاکسارمحمد علی یہ مکتوب اگرچہ براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کا لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ مکرمی مولوی محمد علی صاحب ( جوخلافت ثانیہ کے ساتھ ہی قادیان سے انکار خلافت کر کے خروج کر چکے ہیں اور لاہور جا بسے ہیں۔عرفانی) نے حضرت اقدس کے حکم سے لکھا ہے۔خطوط کی سال وار ترتیب کے لحاظ سے بھی یہ خط یہاں نہیں آنا چاہئے تھا مگر ا س کے لئے میں دوسری جگہ بھی نہیں نکال سکا۔یہ خط بہت سے ضروری اور اہم مضامین پر مشتمل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پاک خواہشوں اور مقاصد کامظہر ہے۔تاریخ سلسلہ میں یہ ایک مفید اور دلچسپ ورق ہے۔مناسب موقعہ پر میں اس سے ضروری امور پر روشنی ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔وباللہ التوفیق۔آ مین۔