مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 652
مکتوب نمبر ۲۷۸ ملفوف ایک غیر معمولی خط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی چودھری صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔آپ کا نوازش نامہ پہنچا۔حضرت اقدس کی خدمت میں سنایا۔فرمایا:۔لکھ دو خط بھی نصف ملاقات ہوتی ہے اگر وہ خط لکھ دیا کریںاور دعا کے لئے یاد دلا دیا کریںتومیں دعا کرتا رہوں گا۔بہت پرانے مخلص ہیں۔فرمایا ان پر کچھ قرضہ کا بوجھ بھی ہے، جب تک اس سے فراغت نہیں ہوتی ملازمت کرتے رہیں بعد میں پنشن لے لیویں۔آج پھر فرمایا کہ رات کو پھر وہی الہام پھر ہوا۔قرب اجلک المقدر ولا نبقی لک من المخزیات ذکرًا۔قل میعاد ربک ولا نبقی لک من المخزیات شیئا۔۱؎ فرمایا:۔ان فقرات کے ساتھ لگانے سے صاف منشاء الٰہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغام رحلت دیا جاوے گا تو دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ ابھی ہمارے فلاں فلاں مقاصد باقی ہیں اس کے لئے فرمایا کہ ہم سب کی تکمیل کریںگے۔فرمایا:۔لوگ اکثر غلطی کھاتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ سب امور کی تکمیل مامور ہی کر جائے۔وہ بڑی بڑی امیدیں باندھ رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب کچھ مامور اپنی زندگی میں ہی کر کے اُٹھا ہے۔صحابہ میں بھی ایسا خیال پید اہو گیا تھا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے کا وقت نہیں آیا۔کیونکہ دعویٰ تو تھا کہ کل دنیا کی طرف رسول ہوئے اور ابھی عرب کا بھی بہت سا حصہ یونہی پڑا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ ان سب امور کی تکمیل آہستہ آہستہ کر تا رہتا ہے۔تاکہ جانشینوں کو بھی خدمت دین کا ثواب ملتا رہے۔اسی ذکرمیں فرمایا کہ ہماری جماعت میں سے اچھے اچھے لوگ مرتے جاتے ہیں چنانچہ