مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 602
مکتوب نمبر ۲۱۵ پوسٹ کارڈ بس مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ نے جو کوٹ کپڑا بنوانے کے لئے لکھا تھا۔میرے خیال میں سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ ایک لحاف مہمانوں کی نیت سے بنوادیں کہ مہمانوں کے لئے اکثر لحافوں کی ضرورت ہوتی ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد ازقادیان نوٹ:۔اس خط پر تاریخ نہیں۔مگر قادیان کی مہر ۲۲؍دسمبر ۱۸۹۳ء کی ہے۔دوسری بات اس خط پر یہ ہے کہ آپ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پورا نہیں لکھا بلکہ صرف ’’بس‘‘ لکھ دیا ہے۔تیسری بات یہ خط آپ کے ایثار اور اکرامِ ضیف کے حسنات کو آپ کی سیرت میں دکھاتا ہے۔چودھری رستم علی صاحب آپ کے لئے ایک کوٹ تیار کرانا چاہتے ہیں مگر آپ اپنے نفس اور آرام کو ترک کرکے انہیں مہمانوں کے لئے ایک لحاف بنوا دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے خدام کی تربیت کس طرح فرماتے تھے اور منازل سلوک کس طرح طے کرا رہے تھے۔چودھری صاحب کے اخلاص و محبت کا توکیا کہناہے۔(عرفانی)