مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 511

نوٹ: اس مکتوب میں بشیر اوّل (اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا) کی پیدائش کی آپ نے بشارت دی ہے۔چونکہ ایک مولود کے متعلق خد اتعالیٰ کی ایک عظیم الشان بشارت برنگ پیشگوئی دی تھی۔بشیراوّل کے پیدا ہونے پر حضرت اقدس کا خیال اسی طرف گیا کہ شاید یہی وہ مولود موعود ہو۔اس کے عقیقہ پر آپ نے بہت سے دوستوں کو دعوت دی تھی اوریہ عقیقہ خدا تعالیٰ کے نشان کے پورا ہونے پر اظہار مسرت و شکر گزاری کا ایک بہترین نمونہ تھا۔اس کے متعلق تفصیل آپ کے سوانح حیات میں ہو گی۔انشاء اللہ العزیز۔(عرفانی) مکتوب نمبر ۷۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل میاں نور احمد نے صاف جواب بھیجا ہے کہ مجھے قادیان میں مطبع لے کر آنا منظور نہیں اور نہ میں دہلی جاتا ہوں اور نہ شرح مجوزہ سابقہ پر مجھے کتاب چھاپنا منظور ہے اس لئے بالفعل تجویز پاس کی غیر ضروری ہے۔لوگ ہر ایک بات میں اپنی دنیا کا پورا پورا فائدہ دیکھ لیتے ہیں بلکہ جائز فائدہ سے علاوہ چاہتے ہیں۔دیانت دار انسان کا ذکر کیا، ایسا بد دیانت بھی کم ملتا ہے جو کسی قدر بد دیانتی ڈر کر کرتا ہے۔اب جب تک کسی مطبع والے سے تجویز پختہ نہ ہوجاوے خود بخود کاغذ خریدنا عبث ہے۔میاں عبداللہ سنوری تو بیمار ہو کر چلا گیا۔میاں فتح خان کا بھائی بھی بیمار ہے اور اس جگہ بیماری بھی بکثرت ہو رہی ہے۔ہفتہ عشرہ میں جب موسم کچھ صحت پر آتا ہے تو لاہور یا امرتسر جا کر کسی مطبع والے سے بندوبست کیاجائے گا۔پھر آپ کو اطلاع دی جائے گی۔ایک ضروری بات کے لئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ میرے پاس ایک آدمی حافظ عبدالرحمن نام موجود ہے۔وہ نوجوان اور قد کاپورا اور قابل ملازمت پولیس ہے بلکہ ایک دفعہ پولیس میں نوکری بھی کر چکا ہے اور اس کاباپ بھی سارجنٹ درجہ اوّل تھا جو پنشن یاب ہو گیا ہے۔اس کامنشا ہے جوپولیس میں کسی جگہ نوکر ہو جاؤں۔اگر بالفعل آپ کی کوشش سے کنسٹبل بھی ہو جائے تو از بس غنیمت ہے۔ایک سند ترک ملازمت بھی بطور صفائی اس کے پاس ہے۔عمر تخمیناً بائیس سال کی