مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 487
کہ تاہم ان سب امور کو انجام دے سکیں۔بخدمت چودھری محمد بخش صاحب وجمیع احباب کو سلام مسنون پہنچے اورجس وقت آپ قادیان میں تشریف لاویں ایک شیشی چٹنی سرکہ کی ضرور ساتھ لاویں۔نوٹ:یہ مکتوب حضرت کے اپنے قلم سے لکھا ہوا ہے مگر آپ حسبِ معمول اس پر اپنا نام نہیں لکھ سکے۔تاریخ بھی درج نہیں سلسلہ خطوط سے دسمبر ۱۸۸۶ء کا پایا جاتا ہے۔عرفانی مکتوب نمبر۴۷ ملفوف و مختوم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کل عنایت نامہ آپ کاپہنچا۔مگر کارڈ کوئی نہیں پہنچا۔شیخ مہر علی صاحب کے واسطے جس قدر اس عاجز سے ہو سکا، دعا کی گئی اور حوالہ بخدا وند کریم و رحیم کیا گیا۔اور اس جگہ سب طرح خیریت ہے۔رسالہ سراج منیر کے طبع میں صرف بعض امور کی نسبت دریافت کرنا موجب توقف ہو رہا ہے۔جب وہ امور بھی طے ہو جاتے ہیں تو پھر انشاء اللہ القدیر رسالہ کا طبع ہونا شروع ہو جائے گا اور شائد امرتسر میں کسی قدر توقف کرنا ضروری ہو گا۔اب آپ کی تشریف آوری کی ۲۶؍ دسمبر تک امید لگی ہوئی ہے اور اس جگہ بفضلہ تعالیٰ سب طرح سے خیریت ہے۔اخویم چوہدری محمد بخش صاحب سلام مسنون پہنچے۔والسلام ۱۵؍ دسمبر ۱۸۸۶ء خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ۔یہ پہلا خط ہے جس پر حضرت اقدس نے تین مہریں لگائی ہیں ایک اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ۱؎ کی ہے اور دوسری غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ اُذْکُرُ رَحْمَتِی وَ قُدْرَتِیْ۲؎ کی ہے اور یہ مہریں آپ نے شروع خط میں لگائی ہیں۔( عرفانی)