مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 477
نوٹ۔یہ رسالہ جس کااس مکتوب میںذکر ہے سرمہ چشم آریہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوشیار پور تشریف لے گئے تھے۔وہاں لالہ مرلی دھر سے مباحثہ ہو گیا۔اس مباحثہ کو ترتیب دے کر حضرت نے شائع کرنے کاارادہ فرمایا تو چوہدری رستم علی صاحب نے اس کی طبع و اشاعت کے لئے مدد دینے کی درخواست کی تھی۔اس مکتوب سے جہاں حضرت چوہدری صاحب کے اخلاص پر روشنی پڑتی ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے ایک پہلو کا بھی خوب اظہار ہوتا ہے اگر آپ کو صرف روپیہ لینا مقصود ہوتا تو فوراً لکھ دیتے کہ بھیج دو مگر آپ نے یہ پسند نہیں کیا جب تک رسالہ کاتخمینہ وغیرہ نہ ہو جاوے۔ابتدائً حضرت اقدس کا خیال تھا کہ یہ رسالہ چھوٹا سا ہو گا مگر بعد میں جب وہ مطبع میں گیا تو ایک ضخیم کتاب بن گیا۔(عرفانی) مکتوب نمبر ۳۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خط پہنچ گیا۔میں آپ کے لئے اکثر دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان دعائوںکے اثر خواہ جلدی، خواہ دیر سے ظاہر ہوں۔خواب کے اوّل اجزا تو کچھ متو ّحش ہیں مگر آخری اجزاایسے عمدہ ہیں جن سے سب تو حش دور ہو گیا ہے۔خواب میں پارچات کو صاف کرنا استقامت اور نجات ازہمّ و غم اور توبہ خالص پر دلالت کرتا ہے۔غرض انجام اس کابہت اچھا ہے۔فالحمد لِلّٰہِ۔رسالہ کے چھپنے میں اب یہ توقف ہے کہ مالک مطبع اُجرت ۳۱۸ روپے مانگتا ہے مگر لاہور سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اجرت صرف ۲۶۷ روپیہ ہے۔سو امید ہے کہ دو چار روز تک بات قائم ہو کر مطبع اس جگہ آجائے گا یا کوئی اور مطبع لانا پڑے گا۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۵؍ اپریل ۱۸۸۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ اخویم چوہدری محمد بخش صاحب کو سلام مسنون پہنچے۔