مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 425
مکتوب نمبر ۹۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کاعنایت نامہ پہنچا۔جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں آپ کے لئے بہت دعا کی جاتی ہے اوریقین رکھتا ہو ںکہ خدا تعالیٰ آپ کو ضائع ہونے سے بچا لے گاکہ وہ کریم ورحیم ہے۔آپ کا اپنی جماعت کے ساتھ اختلاط اورمصالحت یہ آپ کی رائے پر موقوف ہے۔اگر ایسی مصالحت میں کوئی امر معصیت اورگناہ کا درمیان نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الصُّلْحُ خَیْرٌ ورنہ اس وقت تک صبر کرنا چاہئے جب تک خد اتعالیٰ خود آسمان سے کوئی صورت بہبودی پید ا کردے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔انسان اپنی کمزوری اور بے صبری سے آنے والی رحمت سے منہ پھیر لیتا ہے ورنہ خد اتعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں۔وہ ضرور وقت پر اپنی تمام باتیں پوری کر دیتا ہے، قادر ہے اورکریم ہے۔صبر سے ایک حدتک تلخی اٹھانا موجب برکات ہے۔مگر یہ کام بڑے خوش قسمت انسانوں کا ہے جن کوخد اتعالیٰ پر بہت بھروسہ ہوتا ہے۔جو کبھی تھکتے نہیں۔آخر خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے ۱؎ یعنی ہم نے نبیوں کو وعدہ مدد اور فتح کا دیا، پھر مدت تک اس وعدہ کو التوا میں ڈال دیا یہاں تک کہ مومنوں نے خیال کیا کہ خد انے جھوٹ بولا اور جھوٹا وعدہ دیا اوراس کے کچھ آثار بھی ظاہر نہ ہوئے مگر آخر وقت پر وہ وعدہ پور اہوا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر یہ خوف کا مقام ہے کہ کچی طبیعت والوں پر یہ حالت بھی آجاتی ہے کہ وہ تھک کر خد اکے وعدہ کو بدظنی سے دیکھنے لگتے ہیں اور جھوٹ خیال کرتے ہیں۔نہایت خوش قسمت وہ شخص ہیں جن میں تھکنے کا مادہ نہیں، گویا ان میں پیغمبروں کی روح ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کو قسم دے کر گواہوں کے ساتھ یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یوسف ؑ کو بھیڑیا کھا گیا مگر خداکے وعدے میں وہ شک نہ لائے اورچوبیس برس کے قریب مدت گزر گئی، خداکے وعدے نے کچھ بھی ظہور نہ کیا یہاں تک کہ گھر کے لوگ بھی حضرت یعقوبؑ کو دیوانہ کہنے لگے۔لیکن آخرکار وہ سچا نکلا۔غرض سب کچھ انسان کر سکتا ہے لیکن صادق مومنوں کی طرح صبر کرنا