مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 36

مکتوب نمبر ۲۳ نوٹ از مرتب: یہ خط حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے نام ہے جو ان ایام میں کریم بخش کہلاتے تھے اس لئے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا نام ان کے والدین نے کریم بخش ہی رکھا تھا۔میں نے آپ کے والد ماجد چوہدری محمد سلطان صاحب کو دیکھا کہ وہ ہمیشہ کریم بخش ہی کہا کرتے تھے۔حضرت حکیم الامت کے مکتوبات کے ضمن میں اس مکتوب کو میں نے اس لئے درج کر دیا ہے کہ یہ خط حضرت حکیم الامت ہی کے متعلق ہے۔اس مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مخدوم الملۃ مولانا عبدالکریم رضی اللہ عنہ کے تعلقات اور مراسلات کا سلسلہ بھی حضرت اقدس علیہ السلام سے آپ کے دعویٰ اور بیعت سے پہلے کا ہے اور یہ سلسلہ دراصل براہین احمدیہ کے اعلان اور اشاعت کے بعد قائم ہوا تھا۔پھراس خط سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ان ایام میں حضرت مولوی صاحب (حکیم الامت) پر کوئی ابتلا تھا جیسا کہ حضرت حکیم الامت کی عام عادت تھی۔انہوں نے خود حضرت اقدس کو اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا بلکہ خود حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے اس تعلق اور محبت کی بنا پر جو انہیں حضرت حکیم الامت سے تھا، براہِ راست حضرت اقدس کو اطلاع دی ہے جس پر حضرت نے یہ تسلی نامہ مولوی عبدالکریم صاحب کو لکھا اور انہوں نے حضرت حکیم الامت کو دکھایا اور حضرت حکیم الامت نے اسے اپنے خطوط میں منسلک کر لیا۔(عرفانی) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مکرمی اخویم میاں کریم بخش صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ جو محبت اور اخلاص سے بھرا ہوا تھا پہنچا۔جس قدر آپ نے خلوص اور محبت سے خط لکھا ہے میں اس کا شکر گزار ہوں۔خداوندکریم آپ کو اس کا اجر بخشے۔بیشک اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نہایت قابل تعریف اخلاق سے متخلّق ہیں اور مجھ کو ان کے ہر ایک خط کے دیکھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بفضلہ تعالیٰ ان نادر الوجود مَردوں میں سے ہیں کہ جو دنیا میں