مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 35
مکتوب نمبر ۲۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ عین انتظار میں پہنچا۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔میں پروردگار جلّشانہٗ کا شکر ادا نہیں کر سکتا جس نے ایسے صادق اور کامل الوداد دوست میرے لئے میسر کئے۔فالحمدللّٰہ علی احسانہ۔پانچ رسالہ شحنہ حق خدمت شریف میں روانہ کئے گئے ہیں۔کتنی مجبوریوںکے پیش آنے کی وجہ سے میرا ارادہ ہے کہ اپنا مطبع تیار کر کے سراج منیر وغیرہ کتب اس میں چھپواؤں۔سو اگر خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے سرمایہ میسر کر دیا تو جلد پریس وغیرہ کاسامان ضروری خرید کر کتابوں کا چھپوانا شروع کیا جائے۔اس طرف اب بشدت گرمی پڑتی ہے۔امید ہے کشمیر میں خوب بہار ہوگی۔کشمیر کا تحفہ کشمیر کے بعض عمدہ میوے ہیں جیسے گوشہ بگو کی لوگ بہت تعریف کرتے ہیں مگر وہ میوہ ذخیرہ خور نہیں ہیں۔امید رکھتا ہوں کہ جلد جلد حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور خوشی خورمی سے لاوے اور آپ کے ساتھ رہے۔آمین۔والسلام خاکسار ۱۱؍ مئی ۱۸۸۷ء غلام احمد عفی عنہ از قادیان