مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 392
سے امید تھی کہ اس قدر توقف ظہور میں نہ آتا۔بہرحال میں آپ کی بلائوں کے دفع کے لئے ایسا کھڑا ہوں جیسا کو ئی شخص لڑائی میں کھڑا ہوتا ہے۔خدا داد قوت استقلال اور ثابت قدمی اور صدق و یقین (کے) ہتھیاروں سے اور عقد ہمت کی پیش قدمی سے اس میدا ن میں خدا تعالیٰ سے کامیابی چاہتا ہوں۔وہ رحیم وکریم دعائوں کو سننے والا مہربان خدا ہے اس کے فضل سے ہر ایک رحمت کی امید ہے۔آپ کے ملنے کااشتیاق ہے۔قرنطینہ کی تکلیفات راہ میں نہ ہوں جن کی برداشت مشکل ہوتی ہے تو آپ ہر ایک وقت آسکتے ہیں۔مجھے دلی خواہش ہے کہ آپ تشریف لاویں۔مگر یہ دریافت کر لینا چاہئے کہ قرنطینہ کی ایذا رسانی روکیں تو درمیان نہیں ہیں؟ اسی وجہ سے میں نے تار نہیں دیا کہ یہ امور صرف خط کے ذریعہ سے مفصل طور پر پیش ہو سکتے ہیں۔امید کہ جس وقت تشریف لاویں تو مجھے تار دیں کہ فلاں وقت روانہ ہوئے۔میں پہلے اس کے اطلاع دے چکا ہوں کہ میرے پر ایک فوجداری مقدمہ سرکار کی طرف سے دائر ہو گیا ہے۔جس کا اصل محرک محمد حسین بٹالوی ہے۔یہ مقدمہ بظاہر سخت خطرناک ہے کیونکہ پولیس کے معزز ملازم اس مقدمہ کے پیروکار ہیں جو مقدمہ کے بنانے کی سعی کر رہے ہیں اور محمد حسین بٹالوی بھی کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح جھوٹے گواہ پیش کر کے مجھے زیر مواخذہ کرا دے چونکہ ان مخالفوں کی جماعت بڑی ہے، لاکھوں ہیں۔اس لئے محمد حسین کے لئے چندے جمع ہو رہے ہیں۔تا بیرسٹر اور کئی انگریز وکیل کر کے جعلی الزاموں کو میری نسبت ثابت کرا دے۔ہماری جماعت غریبوں کی جماعت ہے لاہور، امرتسر ،سیالکوٹ ،راولپنڈی، پنجاب کے شہروں میں محمد حسین بٹالوی کے لئے ایک رقم کثیر جمع ہوتی جاتی ہے۔غالباً دلّی میں بھی نذیر حسین کی معرفت یہ چندہ ہو گا۔ہم اپنا کام خدا تعالیٰ کو سونپتے ہیں میں نے اوّل خیا ل کیا تھا کہ شاید آنمکرم کی تحریک سے مدراس میں کسی قدر چندہ ہو مگر پھر مجھے خیال آتا ہے کہ ہر ایک انسان اس ہمدردی کے لائق نہیں۔جب تک انسان سلسلہ میں داخل ہو کر جاں نثار مرید نہ ہو۔تب تک ایسے واقعات روح پر قوی اثر نہیں کرتے۔دلوں کا خدا مالک ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے باوجود اس تفرقہ کے اور ایسی حالت کے جو قریب قریب تباہی کے ہے آپ کو وہ اخلاص بخشا ہے کہ جو وفادار جان نثار