مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 391
مکتوب نمبر ۶۱ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔آپ کاانتظار ہے اور اب تک ہے نہ معلوم کیا باعث ہوا کہ آپ تشریف نہ لائے۔دعا انتہا تک پہنچ گئی ہے۔آج صبح کے وقت مجھ کو یہ الہام ہوا۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۱؎ امید ہے کہ اپنے حالات خیریت سے اطلاع دیں گے۔والسلام ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۶۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ آنمکرم اور نیز مبلغ ایک سو روپیہ مجھ کو پہنچا جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء۔میں آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوں۔آپ کا ہر ایک خط جس میں تفرقہ خاطر اورخوف و خطر کا ذکر ہوتا ہے۔پہلی دفعہ تو میرے پر ایک دردناک اثر ہوتا ہے مگر پھر بعد اس کے جب اللہ جلّشانہٗ کی طاقت اور قدرت اور اس کے وہ الطاف کریمانہ جو میرے پر ہیں، بلا توقف یاد آ جاتے ہیں تو وہ غم دور ہوکرنہایت یقینی امیدیں دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔آپ کے لئے میرے دل میں عجب جوش تضرّع اور دعا ہے۔اگر عمیق مصالح جس کاعلم بشر کو نہیں ملتا، توقف کونہ چاہتیں تو خدا تعالیٰ کے فضل وکر م