مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 388
مکتوب نمبر۵۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔آپ کاعنایت نامہ معہ مبلغ ایک سو روپیہ آج مجھ کو ملا۔جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء۔آمین۔جس قدر یہ عاجز آپ کو تسلی اور اطمینان کے الفاظ لکھتا ہے یہ لغو اور بیہودہ نہیں ہے۔بلکہ بوجہ آپ کے نہایت درجہ کے اخلاص کے اس درجہ پر آپ کے لئے دُعا ظہور میں آتی ہے کہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ دعائیں خالی نہیں جائیں گی۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لائے ہیں اور اس کو قادر اور کریم اور رحیم سمجھتے ہیں ان کے لئے دعائوں سے زیادہ کوئی امر موجب تسلی نہیں ہوسکتا۔میں اپنے دل سے یہ گواہی پاتا ہوں کہ جیسا کہ ایک شخص اپنے جوش اخلاص اور محبت اور ہمدردی سے کسی کے لئے دعا کرسکتا ہے وہ دعا میں آپ کے لئے کرتا ہوں اورمیں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری دعائوں کو ضائع نہیں کرے گا۔وہ خد ا وند رحیم وکریم ذوالحیاء الکرم ہے۔امید کہ اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع اورمسرورالوقت فرماتے رہیں باقی خیریت ہے۔والسلام مبلغ ایک سو روپیہ سیٹھ دال جی صاحب کی طرف سے بھی پہنچ گیا تھا۔میری طرف سے دعا اور شکر اُن کوپہنچا دینا۔خاکسار ۲۲؍ نومبر ۱۸۹۸ء مرزا غلام احمد